منتخب تحریرات — Page 24
۲۴ کو جہنم تک پہنچائے گی ۔ اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا۔ مگر وہ سب لوگ جو اخیر ۔اگر پیدانہ اس تک صبر کریں گے اور اُن پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں چا گی اور قو میں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دُنیا اُن سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتحیاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے اُن پر کھولے جائیں گے۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔ روحانی خزائن جلد ۱۲۰ الوصیت صفحه ۳۰۹) نا انصافی پر ضد کر کے سچائی کا خون نہ کرو۔ حق کو قبول کر لو اگر چہ ایک بچہ سے اور اگر مخالف کی طرف حق پاؤ تو پھر فی الفور اپنی خشک منطق کو چھوڑ دو۔ سچ پر ٹھہر جاؤ اور سچی گواہی دو۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّوْرِ یعنی ہُوں کی پلیدی سے بچو اور جھوٹ سے بھی کہ وہ بہت سے کم نہیں۔ جو چیز قبلۂ حق سے تمہارا منہ پھیرتی ہے وہی تمہاری راہ میں بت ہے۔ سچی گواہی دوا اگر چہ تمہارے باپوں یا بھائیوں یا دوستوں پر ہو۔ چاہیئے کہ کوئی عداوت بھی تمہیں انصاف سے مانع نہ ہو۔ باہم بخل اور کینہ اور بخل اور کینہ اور حسد اور بغض اور بے مہری چھوڑ دو اور ایک ہو جاؤ۔ قرآن شریف کے بڑے حکم دو ہی ہیں۔ ایک توحید و محبت و اطاعت باری عزاسمہ دوسری ہمدردی اپنے بھائیوں اور اپنے بنی نوع کی۔ ۔ (روحانی خزائن جلد ۱۳ ازالہ اوہام صفحه ۵۵۰) سچائی اختیار کرو۔ سچائی اختیار کرو کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے دل کیسے ہیں۔ کیا انسان اس کو بھی دھوکا دے سکتا ہے۔ کیا اس کے آگے بھی مکاریاں پیش جاتی ہیں۔ (روحانی خزائن جلد ۳ ازالہ اوہام صفحه ۵۴۹)