منتخب تحریرات — Page 13
آنحضرت ﷺ کے وقت تھا۔ علاوہ اس کے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ ہر شخص کا کلام اس کی ہمت کے موافق ہوتا ہے جس قدر اس کی ہمت اور عزم اور مقاصد عالی ہوں گے اسی پایہ کا گے اس پانی کا وہ کلام ہوگا۔ اور وحی الہی میں بھی یہی رنگ ہوتا ہے۔ جس شخص کی طرف اس کی وحی آتی ہے جس قدر ہمت بلند رکھنے والا وہ ہو گا اسی پایہ کا کلام اسے ملے گا۔ آنحضرت ﷺ کی ہمت واستعداد اور عزم کا دائرہ چونکہ بہت ہی وسیع تھا اس لئے آپ کو جو کلام ملا وہ بھی اس پایہ اور رتبہ کا ہے کہ دوسرا کوئی شخص اس ہمت اور حوصلہ کا کبھی پیدا نہ ہوگا۔ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ ۵۷ ) ہم سچ سچ کہتے ہیں اور سچ کہنے سے کسی حالت میں رُک نہیں سکتے کہ اگر آنحضرت آئے نہ ہوتے اور اور قرآن شریف جس کی تاثیریں ہمارے ائمہ اور اکا بر قدیم سے دیکھتے آئے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں ، نازل نہ ہوا ہوتا۔ تو ہمارے لئے یہ امر بڑا ہی مشکل ہوتا کہ جو ہم فقط بائبل کے دیکھنے سے یقینی طور پر شناخت کر سکتے کہ حضرت موسیٰ اور حضرت مسیح اور دوسرے گزشتہ نبی فی الحقیقت اسی پاک اور مقدس جماعت میں سے ہیں جن کو خدا نے اپنے لطف خاص سے اپنی رسالت کے لئے چن لیا ہے ۔ یہ ہم کو فرقان مجید کا احسان ماننا چاہیے جس نے اپنی روشنی ہر زمانہ میں آپ دکھلائی اور پھر اس کامل روشنی سے گزشتہ نبیوں کی صداقتیں بھی ہم پر ظاہر کر دیں۔ اور یہ احسان نہ فقط ہم پر بلکہ آدم سے لیکر مسیح یک ان تمام نبیوں پر ہے کہ جو قرآن شریف سے پہلے گزر چکے۔ (روحانی خزائن جلد ابراہین احمد یه حاشیه در حاشیه صفحه ۲۹۰) آج روئے زمین پر سب الہامی کتابوں میں سے ایک فرقان مجید ہی ہے کہ جس کا کلام الہی ہونا دلائل قطعیہ سے ثابت ہے۔ جس کے اصول نجات کے بالکل راستی اور وضع فطرتی پر مبنی ہیں۔ جس کے عقائد ایسے کامل اور مستحکم ہیں جو براہین قویہ ان کی صداقت پر شاہد ناطق ہیں جس کے احکام حق محض پر قائم ہیں جس کی تعلیمات ہر یک طرح کی آمیزش