منتخب تحریرات

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 51

منتخب تحریرات — Page 4

خلعت وجود بخشا بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو یا اُس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں ۔ (روحانی خزائن جلد ا براہین احمد یہ حاشیه صفحه ۱۹۱ - ۱۹۲) حمد و ثنا اُسی کو جو ذات جاودانی ہمسر نہیں ہے اُس کا کوئی نہ کوئی ثانی باقی وہی ہمیشہ غیر اُس کے سب ہیں فانی غیروں سے دل لگانا جھوٹی ہے سب کہانی سب غیر ہیں وہی ہے اک دل کا یار جانی دل میں میرے یہی ہے سُبْحَنَ مَنْ يَرَانِي سب کا وہی سہارا رحمت ہے آشکارا ہم کو وہی پیارا دلبر وہی ہمارا اُس بن نہیں گزارا غیر اُس کے جُھوٹ سارا یہ روز کر مبارک سُبْحَنَ مَنْ يَّرَانِي (روحانی خزائن جلد ۱۲ محمود کی آمین صفحه ۳۱۹) مین صفحه ۳۱۹) میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر روحوں میں سچی تلاش پیدا ہو اور دلوں میں سچی پیاس لگ جائے تو لوگ اس طریق کو ڈھونڈیں اور اس راہ کی تلاش میں لگیں ۔ مگر یہ راہ کس طریق سے کھلے گی اور حجاب کس دوا سے اُٹھے گا۔ میں سب طالبوں کو یقین دلاتا ہوں کہ صرف اسلام ہی ہے جو اس راہ کی خوشخبری دیتا ہے اور دوسری قو میں تو خدا کے الہام پر مدّت سے مہر لگا چکی ہیں ۔ سو یقیناً سمجھو کہ یہ خدا کی طرف سے مہر نہیں بلکہ محرومی کی وجہ سے انسان ایک حیلہ پیدا کر لیتا ہے۔ اور یقینا یہ سمجھو کہ جس طرح یہ ممکن نہیں کہ ہم بغیر آنکھوں کے دیکھ سکیں یا بغیر کانوں کے سُن سکیں یا بغیر زبان کے بول سکیں اسی طرح یہ بھی ممکن نہیں کہ بغیر قرآن کے اُس پیارے محبوب کا منہ دیکھ سکیں ۔ میں جوان تھا اب بوڑھا ہوا مگر میں نے کوئی نہ پایا جس نے بغیر اس پاک چشمہ کے اس کھلی کھلی معرفت کا پیالہ پیا ہو۔ (روحانی خزائن جلد ۱ اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۴۴۲ - ۴۴۳) کس قدر ظاہر ہے نور اُس مبدء الانوار کا بن رہا ہے سارا عالم آئینہ ابصار کا