حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 5
۶۸۷ کیونکہ جیسا کہ میں نے ابھی کہا ہے تصورات کے تصورات کا اثر بہت زبردست اثر ہے اور میں نے صوفیوں کے تذکروں میں پڑھا ہے کہ انہوں نے تصور کو یہاں تک پہنچایا کہ انسان کو بندر یا خنزیر کی صورت میں دیکھا۔ غرض یہ ہے کہ جیسا کوئی تصور کرتا ہے ویسا ہی رنگ چڑھ جاتا ہے۔ پس جو خیالات بدلذات کا موجب سمجھے جاتے تھے ان کا قلع قمع کرے۔ یہ پہلی شرط ہے۔ دوسری شرط ندم ہے۔ یعنی پشیمانی اور ندامت ظاہر کرنا ۔ ہر ایک انسان کا کانشنس اپنے اندر یہ قوت رکھتا ہے کہ وہ اس کو ہر برائی پر متنبہ کرتا ہے مگر بد بخت انسان اُس کو معطل چھوڑ دیتا ہے۔ پس گناہ اور بدی کے ارتکاب پر پشیمانی ظاہر کرے اور یہ خیال کرے کہ یہ لذات عارضی اور چند روزہ ہیں اور پھر یہ بھی سوچے کہ ہر مرتبہ اس لذت اور حظ میں کمی ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بڑھاپے میں آ کر جبکہ قومی بے کار اور کمزور ہو جاویں گے۔ آخر ان سب لذات دنیا کو چھوڑنا ہو گا پس جبکہ خود زندگی ہی میں یہ سب باتیں چھوٹ جانے والی ہیں تو پھر ان کے ارتکاب سے کیا حاصل؟ بڑا ہی خوش قسمت ہے وہ انسان جو تو بہ کی طرف رجوع کرے اور جس میں اوّل اقلاع کا خیال پیدا ہو یعنی خیالات فاسده و تصورات بیهوده کا قلع قمع کرے۔ جب یہ نجاست اور ناپا کی نکل جاوے تو پھر نادم ہو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو۔ تیسری شرط عزم ہے یعنی آئندہ کے لئے مصمم ارادہ کر لے کہ پھر ان برائیوں کی طرف رجوع نہ کروں گا اور جب وہ مداومت کرے گا تو خدا تعالیٰ اُسے سچی توبہ کی توفیق عطا کرے گا یہاں تک کہ وہ سيِّئات اس سے قطعاً زائل ہو کر اخلاق حسنہ اور افعال حمیدہ اُس کی جگہ لے لیں گے اور یہ فتح ہے اخلاق پر ۔ اس پر قوت اور طاقت بخشنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے کیونکہ تمام طاقتوں اور قوتوں کا مالک وہی ہے جیسے فرمایا أَنَّ الْقُوَّةَ لِلهِ جَمِيعًا ل (رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۱۵۷، ۱۵۸۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۸۷، ۸۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) استغفار کے حقیقی اور اصلی معنی یہ ہیں کہ خدا سے درخواست کرنا کہ بشریت کی کوئی کمزوری ظاہر نہ ہو اور خدا فطرت کو اپنی طاقت کا سہارا دے اور اپنی حمایت اور نصرت کے حلقہ کے اندر لے لے۔ یہ لفظ غَفَرَ سے لیا گیا ہے۔ جو ڈھانکنے کو کہتے ہیں ۔ سواس کے یہ معنے ہیں کہ خدا اپنی قوت کے ساتھ مشخص مستغفر کی فطرتی کمزوری کو ڈھانک لے لیکن بعد اس کے عام لوگوں کے لئے اس لفظ کے معنی اور بھی وسیع کئے گئے اور یہ بھی مراد لیا گیا کہ خدا گناہ کو جو صادر ہو چکا ہے ڈھانک لے لیکن اصل اور حقیقی معنے یہی ہیں کہ خدا اپنی خدائی کی طاقت کے ساتھ مستغفر کو جو استغفار کرتا ہے فطرتی کمزوری سے بچاوے اور اپنی طاقت سے طاقت بخشے اور اپنے علم سے البقرة : ١٦٦