حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 79 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 79

۷۶۱ جاتا ہے اور بہک جاتا ہے۔ اسی کی طرف اللہ جل شانہ اس آیت میں اشارہ فرماتا ہے۔ كُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ ہے یعنی تم ان لوگوں کی صحبت اختیار کرو جو راستباز ہیں ان لوگوں کی راہیں سیکھو جن پر تم سے پہلے فضل ہو چکا ہے۔ آٹھواں وسیلہ خدا تعالیٰ کی طرف سے پاک کشف اور پاک الہام اور پاک خواہیں ہیں چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سفر کرنا ایک نہایت دقیق در دقیق راہ ہے اور اس کے ساتھ طرح طرح کے مصائب اور دُکھ لگے ہوئے ہیں اور ممکن ہے کہ انسان اس نادیدہ راہ میں بھول جاوے یا نا امیدی طاری ہو اور آگے قدم بڑھانا چھوڑ دے۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی رحمت نے چاہا کہ اپنی طرف سے اس سفر میں ساتھ ساتھ اس کو تسلی دیتی رہے اور اس کی دلد ہی کرتی رہے اور اس کی کمر ہمت باندھتی رہے۔ اور اس کے شوق کو زیادہ کرے سواس کی سنت اس راہ کے مسافروں کے ساتھ اس طرح پر واقع ہے کہ وہ وقتا فوقتا اپنے کلام اور الہام سے اُن کو تسلی دیتا اور اُن پر ظاہر کرتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تب وہ قوت پا کر بڑے زور سے اس سفر کو طے کرتے ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں وہ فرماتا ہے۔ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيُوةِ الدُّنْيَا وَفِي الآخِرَةِ ہے اسی طرح اور بھی کئی وسائل ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائے ہیں مگر افسوس ہم اندیشہ طول کی وجہ سے اُن کو بیان نہیں کر سکتے ۔ (اسلامی اصول کی فلاسفی ۔ روحانی خزائن جلده اصفحه ۴۱۵ تا ۴۲۲ ) قولہ ۔ سوائے اس کے خداوند کریم نہایت دیا لو کر پالو ہے اُس کی یہ ہدایت کہ پرستش کرنی چاہئے انسان کی بہتری کے لئے ہے نہ کہ خود خدا کی اس میں کوئی عزت بڑھتی ہے۔ اقول۔ میں کہتا ہوں کہ گو بندگی و عبادت کرنے سے انسان کی اپنی ہی بہتری متصور ہے مگر پھر بھی خدائے تعالیٰ کی ربوبیت تقاضا کرتی ہے اور جوش مارتی ہے کہ لوگ اس کی سیدھی راہ پر قدم مار کر اور ناکردنی کاموں سے بیچ کر اور اس کی پرستش و اطاعت میں محو ہو کر اپنی سعادت مطلوبہ کو پالیں اور اگر اس راہ پر چلنا نہ چاہیں تو پھر نہ اپنے لئے بلکہ انہیں کے لئے اس کا غضب بھڑکتا ہے اور طرح طرح کی تنبیہوں میں انہیں مبتلا کرتا ہے اور جو لوگ پھر بھی نہ سمجھیں وہ بعد اور حرمان کی آگ میں جلتے ہیں۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ کوئی شخص اس کو یہ کہہ سکے کہ تجھے میرے نفع یا نقصان کی کیا فکر پڑی ہے اور کیوں بار بار ہم کو نصیحتیں کرتا ہے اور الہامی کتابیں بھیجتا ہے اور سزائیں دیتا ہے۔ اگر ہم عبادت کریں گے تو اپنے لئے اور اگر نہیں کریں گے تو آپ نقصان اُٹھائیں گے تجھے کیوں ناحق کا جوش وخروش ہے اور اگر ل التوبة: ١١٩ الفاتحة: یونس: ۶۵