حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 72
۷۵۴ ہیں جن سے بتصریح معلوم ہوتا ہے کہ اس کریم کا دراصل منشاء ہی یہی ہے کہ اگر ایک ذرہ ایمان و عمل لے کر بھی اس کی طرف کوئی سفر کرے تو وہ ذرہ بھی نشو و نما کرتا رہے گا اور اگر کسی اتفاق سے تمام سامان اس خیر کے جو میت کو اس عالم کی طرف سے پہنچتی ہے نا پیدا رہیں تا ہم یہ سامان کسی طرح نا پیدا اور گم نہیں ہو سکتا کہ جو تمام مومنوں اور نیک بختوں اور شہیدوں اور صدیقوں کے لئے تاکیدی طور پر یہ حکم فرمایا گیا کہ وہ اپنے ان بھائیوں کے لئے بدل و جان دعائے مغفرت کرتے رہیں جو اُن سے پہلے اس عالم میں گذر چکے ہیں اور ظاہر ہے کہ جن لوگوں کے لئے ایک لشکر مومنوں کا دعا کر رہا ہے وہ دعا ہرگز ہرگز خالی نہیں جائے گی بلکہ وہ ہر روز کام کر رہی ہے اور گنہگار ایماندار جو فوت ہو چکے ہیں ان کی اس کھڑکی کو جو بہشت کی طرف تھی بڑے زور سے کھول رہی ہے۔ ان دعاؤں نے اب تک بے شمار کھڑکیوں کو اس حد تک کشادہ کر دیا ہے کہ بے انتہا ایسے لوگ بہشت میں پہنچ چکے ہیں جن کو اول دنوں میں صرف ایک چھوٹی سی کھڑکی بہشت کے دیکھنے کے لئے عطا کی گئی تھی ۔ اس زمانہ کے ان تمام مسلمانوں کو جو موحد کہلاتے ہیں یہ دھوکا بھی لگا ہوا ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ مرنے کے بعد بہشت میں داخل ہونے والے صرف شہید لوگ ہیں اور باقی تمام مومنین یہاں تک کہ انبیاء اور رسول بھی یوم الحساب تک بہشت سے باہر رکھے جائیں گے صرف ایک کھڑ کی ان کے لئے بہشت کی طرف کھولی جائے گی مگر اب تک انہوں نے اس بات کی طرف توجہ نہیں کی کہ کیا انبیاء اور تمام صدیق روحانی طور پر شہیدوں سے بڑھ کر نہیں ہیں اور کیا بہشت سے دور رہنا ایک قسم کا عذاب نہیں جو مغفورین کے حق میں تجویز نہیں ہو سکتا جس کے حق میں خدائے تعالیٰ یہ کہے کہ رَفَعَ بَعْضَهُمْ درجت لے کیا ایسا شخص سعادت اور فوز مرام میں شہیدوں کے پیچھے رہ سکتا ہے! افسوس کہ ان لوگوں نے اپنی نا ہی سے شریعت غرا کو الٹا دیا ہے ۔ اُن کے زعم میں سب سے پہلے بہشت میں داخل ہونے والے شہید ہیں۔ اور شائد کہیں بے شمار برسوں کے بعد نبیوں اور صدیقوں کی بھی نوبت آوے۔ اس کسر شان کا الزام ان لوگوں پر بڑا بھاری ہے جو بودے عذروں سے دور نہیں ہو سکتا۔ بے شک یہ بات سب کے فہم میں آ سکتی ہے کہ جو لوگ ایمان اور عمل میں سابقین ہیں وہی لوگ دخول فی البحت میں بھی سابقین چاہیئے نہ یہ کہ ان کے لئے صرف ضعیف الایمان لوگوں کی طرح کھڑکی کھولی جائے اور شہید لوگ دنیا سے رخصت ہوتے ہی ہر ایک پھل بہشت کا چن چن کر کھانے لگیں ۔ اگر بہشت میں داخل ہونا البقرة : ۲۵۴