حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 65
۷۴۷ رہا آپ کا یہ اعتراض کہ مسلمانوں کی بہشت میں دنیوی نعمتیں بھی موجود ہوں گی تو یہ کچھ اعتراض کی بات نہیں بلکہ اس سے تو آپ کو اور آپ کے پرمیشر کو بہت شرمندہ ہونا چاہئے کیونکہ مسلمانوں کے خداوند قادر اور غنی مطلق نے تو دائمی اور جاودانی طور پر سب کچھ اپنے بے انتہا خزانوں سے عالم آخرت میں قرآن شریف پر ایمان لانے والوں کو عطا کیا ہے اور روحانی اور جسمانی دونوں طور کی نعمتیں مرحمت فرمائیں کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے سچے پرستار اس دنیا میں صرف روح ہی سے اس کی بندگی اور اطاعت نہیں کرتے بلکہ روح اور جسم دونوں سے کرتے ہیں اور خلقت انسانی کا کمال صرف روح ہی سے پیدا نہیں ہوتا بلکہ روح اور جسم دونوں کے امتزاج واختلاط سے پیدا ہوتا ہے۔ سو اس نے فرمان برداروں کو سعادت تامہ تک پہنچانے کے لئے اور اُن کو پورا پورا اجر دینے کے لئے نجات جاودانی کی لذات کو دو قسم پر مشتمل کیا۔ اپنے محبوبانہ دیدار کی لذتیں بھی دیں اور اپنی دوسری نعمتیں بھی بارش کی طرح ان پر برسائیں ۔ غرض وہ کام کر دکھلایا جو قادر عظیم الشان کی قدرتوں اور عظمتوں اور بے انتہا رحمتوں کے لائق ہے۔ لیکن آپ کا پرمیشر تو مفلس اور دیوالیہ ہی نکلا اور اپنی عاجزی اور درویشی اور مفلسی اور ناطاقتی اور بے اختیاری کے باعث سے آپ لوگوں کو کسی ٹھکانہ نہ لگا سکا اور نہ کوئی مستقل خوشی پہنچا سکا۔ غرض کچھ بھی نہ کر سکا۔ نہ روحانی نعمتیں ہمیشہ کے لئے کے دے سکا نہ جسمانی اور دونوں طور سے آپ کو نا کام اور نامراد اور محروم اور بے نصیب رکھا اور جس کے لئے مرتے تھے اور جان شاری کرتے تھے وہ ایسا نا منصف اور بے سمجھ اور مورکھ اور بے خبر نکلا کہ اس نے تمہاری روحانی اور بدنی مشقتوں کا کچھ بھی قدر نہ کیا اور اپنی الٹی سمجھ سے عاشقانہ وفاداریوں اور جان شاریوں کو چند روزہ مزدوری خیال کر لیا۔ کیا ایسے بخیل اور نا طاقت اور بے سمجھ پر میشر سے محبتیں بڑھ سکتی ہیں؟ اور صفائی کامل سے کوئی دل رجوع ہو سکتا ہے ہرگز نہیں بلکہ اس کی قدرت اور سخاوت اور قدر شناسی کی حقیقت کھلنے سے جپ تپ کرنے والوں کی روحیں بہت ہی افسوسناک اور نادم ہوں گی کہ اگر یہی پر میشر اور یہی اس کی مکتی تھی تو ہم نے خواہ مخواہ کی ٹکریں کیوں ماریں۔ اس قادر رہا یہ اعتراض کہ شراب جو دنیا میں بھی ممنوعات اور محرمات میں سے ہے وہ کیونکر بہشت میں روا ہو جائے گی ۔ اس کا جواب وہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے آپ فرمایا ہے کہ بہشتی شراب کو اس دنیا کی فساد انگیز شرابوں سے کچھ مناسبت نہیں ۔ جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَسَقَهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِنْ كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ۔ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ ا الدهر : ٢٢ L