حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 619 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 619

۱۳۰۱ آپ کو یادر ہے کہ قرآن کا ایک نقطہ یا شعشہ بھی اولین اور آخرین کے فلسفہ کے مجموعی حملہ سے ذرہ سے نقصان کا اندیشہ نہیں رکھتا۔ وہ ایسا پتھر ہے کہ جس پر گرے گا اس کو پاش پاش کرے گا اور جو اس پر خود پاش پاش ہو جائے گا۔ پھر آپ کو دب کر صلح کرینگے کیوں فکر پڑ گئی ۔ (آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۴ تا ۲۵۷ حاشیه ) الاِشْتِهَارِ مُسْتَيْقِنَا بِوَحْيِ اللَّهِ الْقَهَّارِ دوستو اک نظر خدا کے لئے مصطفى کے لئے دوستو ایک سيد الخلق میں ہر دم اس فکر میں ہوں کہ ہمارا اور نصاری کا کسی طرح فیصلہ ہو جائے۔ میرا دل مردہ پرستی کے فتنہ سے خون ہوتا جاتا ہے اور میری جان عجیب تنگی میں ہے اور اس سے بڑھ کر اور کون سا دلی درد کا مقام ہوگا ما کہ ایک عاجز انسان کو خدا بنایا گیا ہے اور ایک مُشتِ خاک کو رب العالمین سمجھا گیا ہے۔ میں کبھی کا اس غم سے فنا ہو جاتا اگر میرا مولی اور میرا قادر توانا مجھے تسلّی نہ دیتا کہ آخر تو حید کی فتح ہے۔ غیر معبود ہلاک ہوں گے اور جھوٹے خدا اپنے خدائی کے وجود سے منقطع کئے جائیں گے۔ مریم کی معبودانہ زندگی پر موت آئے گی اور نیز اس کا بیٹا اب ضرور مرے گا۔ خدا قادر فرماتا ہے کہ اگر میں چاہوں تو مریم اور اس کے بیٹے عیسی اور تمام زمین کے باشندوں کو ہلاک کروں ۔ سواب اس نے چاہا ہے کہ ان دونوں کی جھوٹی معبودانہ زندگی کو موت کا مزہ چکھاوے۔ سواب دونو مریں گے کوئی ان کو بچا نہیں سکتا اور وہ تمام خراب استعداد میں بھی مریں گی جو جھوٹے خداؤں کو قبول کر لیتی تھیں ۔ نئی زمین ہو گی اور نیا آسمان ہو گا۔ اب وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا۔ اور یورپ کو سچے خدا کا پتہ لگے گا۔ اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہوگا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں۔ اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں ۔ قریب ہے کہ سب ملتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا نہ کند ہو گا جب تک دجالیت کو پاش پاش نہ کر دے وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں