حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 615
۱۲۹۷ ہم کو تو خدا تعالیٰ کے اس کلام پر جو ہم پر وحی کے ذریعہ نازل ہوتا ہے اس قدر یقین اور علی وجہ البصیرہ یقین ہے کہ بیت اللہ میں کھڑا کر کے جس قسم کی چاہو قسم دے دو۔ بلکہ میرا تو یقین یہاں تک ہے کہ اگر میں اس بات کا انکار کروں یا وہم بھی کروں کہ یہ خدا کی طرف سے نہیں تو ، ۔ تو معاً کافر ہو جاؤں ۔ الحکم مورخه ۰ اردسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ ۶ - ملفوظات جلد اول صفحہ ۴۰۰ جدید ایڈیشن ) اگر مجھ سے سوال کیا جاوے کہ تم نے کیونکر پہچانا اور یقین کیا کہ وہ کلمات جو تمہاری زبان پر جاری کئے جاتے ہیں وہ خدا کا کلام ہے۔ حدیث النفس یا شیطانی القاء نہیں تو میری روح اس سوال کا مندرجہ ذیل جواب دیتی ہے :- (۱) اوّل جو کلام مجھ پر نازل ہوتا ہے اس کے ساتھ ایک شوکت اور لذت اور تاثیر ہے۔ وہ ایک فولادی میخ کی طرح میرے دل کے اندر دھنس جاتا ہے اور تاریکی کو دور کرتا ہے اور اس کے ورود سے مجھے ایک نہایت لطیف لذت آتی ہے۔ کاش اگر میں قادر ہو سکتا تو میں اس کو بیان کرتا ۔ مگر روحانی لذتیں ہوں خواہ جسمانی ان کی کیفیات کا پورا نقشہ کھینچ کر دکھلانا انسانی طاقت سے بڑھ کر ہے۔ ایک شخص ایک محبوب کو دیکھتا ہے اور اس کی ملاحت حسن سے لذت اُٹھاتا ہے مگر وہ بیان نہیں کر سکتا کہ وہ لذت کیا چیز ہے۔ اسی طرح وہ خدا جو تمام ہستیوں کا علت العلل ہے جیسا کہ اس کا دیدار اعلیٰ درجہ کی لذت کا سرچشمہ ہے ایسا ہی اس ، ایسا ہی اس کی گفتار گفتار بھی لذات کا سرچشمہ ہے۔ بھی لذا ہے۔ اگر ایک کلام انسان سُنے یعنی ایک آواز اس کے دل پر پہنچے اور اس کی زبان پر جاری ہو اور اس کو شبہ باقی رہ جاوے کہ شاید یہ شیطانی آواز ہے یا حدیث النفس ہے تو درحقیقت وہ شیطانی آواز ہو گی یا حدیث النفس ہو گی کیونکہ خدا کا کلام جس قوت اور برکت اور روشنی اور تاثیر اور لذت اور خدائی طاقت اور چھپکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ دل پر نازل خود یقین دلا دیتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے ہوں اور اور ہرگز ہرگز مردہ مردہ آ ہوتا ہے خود ۔ دہ آوازوں سے مشابہت نہیں رکھتا بلکہ اس کے اندر ایک جان ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک طاقت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک کشش ہوتی ہے اور اس کے اندر یقین بخشنے کی ایک خاصیت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک لذت ہوتی ہے اور اس کے اندر ایک روشنی ہوتی ہے۔ اور اُس کے اندر ایک خارق عادت تجلّی ہوتی ہے اور