حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 611 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 611

۱۲۹۳ صفا کی روح نہیں اور آسمانی کشش اس کے ساتھ نہیں اور فوق العادت تبدیلی کا نمونہ اس کے پاس نہیں وہ مذہب مردہ ہے۔ اس سے مت ڈرو۔ ابھی تم میں سے لاکھوں اور کروڑوں انسان زندہ ہوں گے کہ اس مذہب کو نابود ہوتے دیکھ لو گے کیونکہ یہ مذہب آریہ کا زمین سے ہے نہ آسمان سے۔ اور زمین کی باتیں پیش کرتا ہے نہ آسمان کی ۔ پس تم خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کہ خدا تمہارے ساتھ ہے۔ اگر تم صدق اور ایمان پر قائم رہو گے تو فرشتے تمہیں تعلیم دیں گے اور آسمانی سکینت تم پر اُترے گی اور روح القدس سے مدد دیئے جاؤ گے۔ اور خدا ہر ایک قدم میں تمہارے ساتھ ہو گا اور کوئی تم پر غالب نہیں ہو سکے گا۔ خدا کے فضل کی صبر سے انتظار کرو گالیاں سُنو اور چپ رہو۔ ماریں کھاؤ اور صبر کرو۔ اور حتی المقدور بدی کے مقابلہ سے پر ہیز کروتا آسمان پر تمہاری قبولیت لکھی جاوے۔ ( تذکرۃ الشہادتین۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۶۷، ۶۸) رویا :۔ صبح کے وقت لکھا ہوا دکھایا گیا ۔ آہ نادر شاہ کہاں گیا۔“ الحكم جلد ۹ نمبر ۱۶ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۵ ء صفحہ ۱۔ تذکرہ صفحہ ۴۶۱ مطبوعه ۲۰۰۴ء ) الہام ہوا: ” پہلے بنگالہ کی نسبت جو کچھ حکم جاری کیا گیا تھا اب اُن کی دلجوئی ہوگی ۔“ 66 الحکم جلد نمبر ۶ مورخه ۷ ارفروری ۱۹۰۶ء صفحہ ا - تذکره صفحه ۵۰۸ مطبوعه ۲۰۰۴ء ) ملکہ وکٹوریہ کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے خبر دے دی ۔ سلطنت برطانیه تا هشت سال بعد ازاں ضعف و فساد و اختلال یا الفضل جلد ۱۶ نمبر ۷۸ مورخه ۵ را پریل ۱۹۲۹ ء صفحه ۵۔ تذکره صفحه ۶۵۰ مطبوعه ۲۰۰۴ء ) ہزار ہزار خدائے ذوالجلال کا شکر ہے کہ محض اس نے اپنے فضل وکرم سے میری تائید میں یہ نشان دکھلائے اور مجھے طاقت نہیں تھی کہ ایک ذرہ بھی زمین سے یا آسمان سے اپنی شہادت میں کچھ پیش کر سکتا میں مگر اُس نے جو زمین و آسمان کا مالک ہے جس کی اطاعت کا ذرہ ذرہ اس عالم کا جوا اٹھا رہا ہے میری تائید میں ایک دریا نشانوں کا بہا دیا اور وہ تائید دکھلائی جو میرے خیال اور گمان میں بھی نہیں تھی ۔ میں اقرار کرتا ہوں کہ میں اس لائق نہ تھا کہ میری یہ عزت کی جائے مگر خدائے عز وجل نے محض اپنی نا پیدا کنار رحمت سے میرے لئے یہ معجزات ظاہر فرمائے ۔ مجھے افسوس ہے کہ میں اس کی راہ میں وہ طاعت اور تقویٰ کا حق بجا نہیں لا سکا جو میری مراد تھی اور اس کے دین کی وہ خدمت نہیں کر سکا جو لے سلطنت برطانیہ آٹھ سال تک ( مضبوط ) ہے اس کے بعد کمزوری اور افراتفری کا زمانہ