حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 55
۷۳۷ اس کو پکڑ لے گی ۔ پس جس طرح ہماری دنیوی زندگی میں صریح نظر آتا ہے کہ ہمارے ہر ایک فعل کے لئے ایک ضروری نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدا تعالیٰ کا فعل ہے۔ ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ ان دو مثالوں میں صاف فرماتا ہے ۔ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ ہے یعنی جو لوگ اس فعل کو بجالائے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی تو اس فعل کے لئے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہو گا کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھاویں گے اور جن لوگوں نے بھی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہم افضل ان کی نسبت یہ ہوگا کہ ہم اُن کے دلوں کو کج کر دیں گے اور پھر اس حالت کو زیادہ توضیح دینے کے لئے فرمایا۔ مَنْ كَانَ فِي هَذِهِ أَعْمَى فَهُوَ فِي الْآخِرَةِ أَعْمَى وَ أَضَلُّ سَبِيلًا کے یعنی جو شخص اس جہان میں اندھار ہا وہ آنے والے جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا بلکہ اندھوں سے بدتر ۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نیک بندوں کو خدا کا دیدار اسی جہان میں ہو جاتا ہے اور وہ اسی جگ میں اپنے اس پیارے کا درشن پالیتے ہیں جس کے لئے وہ سب کچھ کھوتے ہیں ۔ غرض مفہوم اس آیت کا یہی ہے کہ بہشتی زندگی کی بنیاد اسی جہان سے پڑتی ہے اور جہنمی نابینائی کی جڑھ بھی اسی جہان کی گندی اور کورانہ زیست ہے۔ اور پھر فرمایا وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهرُ ، یعنی جو لوگ ایمان لاتے اور اچھے عمل بجالاتے ہیں وہ ان باغوں کے وارث ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ایمان کو باغ کے ساتھ مشابہت دی جس کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ پس واضح رہے کہ اس جگہ ایک اعلیٰ درجہ کی فلاسفی کے رنگ میں بتلایا گیا ہے کہ جو رشتہ نہروں کا باغ کے ساتھ ہے وہی رشتہ اعمال کا ایمان کے ساتھ ہے۔ پس جیسا کہ کوئی باغ بغیر پانی کے سر سبز نہیں رہ سکتا ایسا ہی کوئی ایمان بغیر نیک کاموں کے زندہ ایمان نہیں کہلا سکتا۔ اگر ایمان ہو اور اعمال نہ ہوں تو وہ ایمان پیچ ہے اور اگر اعمال ہوں اور ایمان نہ ہو تو وہ اعمال ریا کاری ہیں ۔ اسلامی بہشت کی یہی حقیقت ہے کہ وہ اس دنیا کے ایمان اور عمل کا ایک ظل ہے وہ کوئی نئی : چیز نہیں جو باہر سے آ کر انسان کو ملے گی بلکہ انسان کی بہشت انسان کے اندر ہی سے نکلتی ہے اور ہر ایک کی بہشت اُسی کا ایمان اور اُسی کے اعمال صالحہ ہیں جن کی اسی دنیا میں لذت شروع ہو جاتی ہیں اور پوشیدہ طور پر ایمان اور اعمال کے باغ نظر آتے ہیں اور نہریں بھی دکھائی دیتی ہیں لیکن عالم آخرت میں یہی باغ کھلے طور پر محسوس ہوں گے۔ خدا کی پاک تعلیم ہمیں یہی ا العنكبوت: ۷۰ الصف : بنی اسرآئیل : ۷۳ البقرة : ٢٦