حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 580 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 580

۱۲۶۲ بنگر که خون ناحق پروانه شمع را چنداں اماں نداد که شب را سحر کنند ! (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۳۶۴) یہ نشان چراغ دین کے مباہلہ کا نشان ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ جبکہ چراغ دین کو بار بار یہ شیطانی الہام میری نسبت ہوئے کہ یہ شخص دجال ہے اور اپنی نسبت یہ الہام ہوا کہ وہ اس دجال کو نابود کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا ہے اور حضرت عیسی نے اس کو اپنا عصا دیا ہے تا اس ع ہے تا اس عصا سے اس نا دجال کو قتل کرے تو اس کا تکبر بہت بڑھ گیا اور اس نے ایک کتاب بنائی اور اس کا نام منارة امسیح رکھا اور ا اور اس میں بار بار اسی بات پر زور دیا کہ گویا میں حقیقت میں موعود دجال ہوں ۔ اور پھر جب منارة امسیح کی تالیف پر ایک برس گزر گیا تو اس نے مجھے دجال ثابت کرنے کے لئے ایک اور کتاب بنائی اور بار بار لوگوں کو یاد دلایا کہ یہ وہی دجال ہے جس کے آنے کی خبر احادیث میں ہے اور چونکہ غضب الہی کا وقت اُس کے لئے قریب آ گیا تھا اس لئے اس نے اس دوسری کتاب میں مباہلہ کی دعا لکھی اور جناب الہی میں دعا کر کے میری ہلاکت چاہی اور مجھے ایک فتنہ قرار دے کر خدا تعالیٰ سے دعا کی کہ تو اس فتنہ کو دنیا سے اٹھا دے۔ یہ عجیب قدرت حق اور عبرت کا مقام ہے کہ جب مضمون مباہلہ اُس نے کاتب کے حوالے کیا تو وہ کا پیاں ابھی پتھر پر نہیں جمی تھیں کہ دونوں لڑکے اس کے جو صرف دو ہی تھے طاعون میں مبتلا ہو کر مر گئے اور آخر ۴ را پریل ۱۹۰۶ ء کو لڑکوں کی موت سے دو تین روز بعد طاعون میں مبتلا ہو کر اس جہان کو چھوڑ گیا اور لوگوں پر ظاہر کر گیا کہ صادق کون ہے اور کاذب کون ۔ جو لوگ اس وقت حاضر تھے ان کی زبانی سنا گیا ہے کہ وہ اپنی موت کے قریب کہتا تھا کہ اب خدا بھی میرا دشمن ہو گیا ہے۔“ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۳۸۷) صحیح دارقطنی میں یہ ایک حدیث ہے کہ امام محمد باقر فرماتے ہیں ۔ إِنَّ لِمَهْدِيْنَا آيَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا مُنْذُ خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ يَنْكَسِفُ الْقَمَرُ لَاَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ رَمَضَانَ وَ تَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ مِنْهُ۔ ترجمہ یعنی ہمارے مہدی کے لئے دونشان ہیں اور جب سے کہ زمین و آسمان خدا نے پیدا کیا یہ دو نشان کسی اور مامور اور رسول کے وقت میں ظا ظاہر نہیں ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ مہدی معہود کے زمانہ میں ں رمضان کے مہینہ میں چاند کا گرہن اُس کی ا پاند کا گرہن اُس کی اول رات میں ہو گا یعنی تیرھویں تاریخ میں اور سورج کا گرہن اس کے دنوں میں سے بیچ کے دن میں ہو گا یعنے اسی رمضان کے مہینہ کی لے دیکھئے پروانہ کے خونِ ناحق نے شمع کو اتنی مہلت نہ دی کہ رات کو صبح میں بدل دے۔ الله