حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 548
۱۲۳۰ دَابَّةً مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ أَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْنَا لَا يُوْقِنُونَ لَ اور پھر آگے فرمایا ہے۔ وَيَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ يُكَذِّبُ بِايْتِنَا فَهُمْ يُوْزَعُونَ حَتَّى إِذَا جَاءُ وَ قَالَ أَكَذَّبْتُمْ بِايْتِي وَلَمْ تُحِيطُوا بِهَا عِلْمًا أَمَّاذَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ وَوَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ بِمَا ظَلَمُوا فَهُمْ لَا يَنْطِقُوْنَ ۔۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہی دابة الارض جو ان آیات میں مذکور ہے جس کا مسیح موعود کے زمانہ میں ظاہر ہونا ابتداء سے مقرر ہے یہی وہ مختلف صورتوں کا جانور ہے جو مجھے عالم کشف میں نظر آیا اور دل میں ڈالا گیا کہ یہ طاعون کا کیڑا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کا نام دَابَّةُ الأَرض رکھا۔ کیونکہ زمین کے کیڑوں میں سے ہی یہ بیماری پیدا ہوتی ہے۔ اسی لئے پہلے چوہوں پر اس کا اثر ہوتا ہے اور مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ اور جیسا کہ انسان کو ایسا ہی ہر ایک جانور کو یہ بیماری ہو سکتی ہے۔ اسی لئے کشفی عالم میں اس کی مختلف شکلیں نظر آئیں۔ ( نزول مسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۴۱۵ تا ۴۱۷ ) المسیح ۔ شکر کا مقام ہے کہ گورنمنٹ عالیہ انگریزی نے اپنی رعایا پر رحم کر کے دوبارہ طاعون سے بچانے کے لئے ٹیکا کی تجویز کی اور بندگانِ خدا کی بہبودی کے لئے کئی لاکھ روپیہ کا بوجھ اپنے سر پر ڈال لیا۔ در حقیقت یہ وہ کام ہے جس کا شکر گزاری سے استقبال کرنا دانشمند رعایا کا فرض ہے ۔ اور سخت نادان اور اپنے نفس کا وہ شخص دشمن ہے کہ جو ٹیکا کے بارے میں بدظنی کرے۔ کیونکہ یہ بار ہا تجربہ میں آچکا ہے کہ یہ محتاط گورنمنٹ کسی خطرناک علاج پر عملدرآمد کرانا نہیں چاہتی بلکہ بہت سے تجارب کے بعد ایسے امور میں جو تد بیر فی الحقیقت مفید ثابت ہوتی ہے اسی کو پیش کرتی ہے۔ سو یہ بات اہلیت اور انسانیت سے بعید ہے کہ جس سچی خیر خواہی کے لئے لکھوکھا روپیہ گورنمنٹ خرچ کرتی ہے اور کر چکی ہے اُس کی یہ داد دی جائے کہ گویا گورنمنٹ کو اس سردردی اور صرف زر سے اپنا کوئی خاص مطلب ہے۔ وہ رعایا بد قسمت ہے کہ بدظنی میں اس درجہ تک پہنچ جائے ۔ کچھ شک نہیں کہ اس وقت تک جو تد بیر اس عالم اسباب میں اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ آئی وہ بڑی سے بڑی اور اعلیٰ سے اعلیٰ یہ تدبیر ہے کہ ٹیکا کرایا جائے ۔ اس سے کسی طرح انکار نہیں ہو سکتا کہ یہ تدبیر مفید پائی گئی ہے اور یہ پابندی رعایت اسباب تمام رعایا کا فرض ہے کہ اس پر کار بند ہو کر وہ غم جو گورنمنٹ کو ان کی جانوں کے لئے ہے اس سے اس کو سبکدوش کریں۔ لیکن ہم بڑے ادب سے اس محسن گورنمنٹ کی خدمت میں عرض کرتے ہیں کہ اگر ہمارے لئے ایک ل النمل : ۲۸۳ النمل: ۸۴ تا ۸۶