حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 51
۷۳۳ بهشت و دوزخ مذہب سے غرض کیا ہے !! بس یہی کہ خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات کا کے وجود اور اس کی صفات کاملہ پر یقینی طور پر ایمان حاصل ہو کر نفسانی جذبات سے انسان نجات پا جاوے اور خدا تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا ہو کیونکہ در حقیقت وہی بہشت ہے جو عالم آخرت میں طرح طرح کے پیرایوں میں ظاہر ہو گا اور حقیقی خدا سے بے خبر رہنا اور اس سے دور رہنا اور سچی محبت اُس سے نہ رکھنا درحقیقت یہی جہنم ہے جو عالم آخرت میں انواع واقسام کے رنگوں میں ظاہر ہوگا۔ (چشمہ مسیحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۵۲) قرآن شریف نے بہشت اور دوزخ کی جو حقیقت بیان کی ہے کسی دوسری کتاب نے بیان نہیں کی ۔ اُس نے صاف طور پر ظاہر کر دیا ہے کہ اسی دنیا سے یہ سلسلہ جاری ہوتا ہے چنانچہ فرمایا۔ وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ لے یعنی جو شخص خدا تعالیٰ کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرا اس کے واسطے دو بہشت ہیں۔ یعنی ایک بہشت تو اسی دنیا میں مل جاتا ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کا خوف اس کو برائیوں سے روکتا ہے۔ اور بدیوں کی طرف دوڑ نا دل میں ایک اضطراب اور قلق پیدا کرتا ہے جو بجائے خود ایک خطرناک جہنم ہے لیکن جو شخص خدا کا خوف کھاتا ہے تو وہ بدیوں سے پر ہیز کر کے اس عذاب اور درد سے تو دم نقد بچ جاتا ہے جو شہوات اور جذبات نفسانی کی غلامی اور اسیری سے پیدا ہوتا ہے اور وہ وفا داری اور خدا کی طرف جھکنے میں ترقی کرتا ہے جس سے ایک لذت اور سرور اُسے دیا جاتا ہے اور یوں بہشتی زندگی اسی دنیا سے اس کے لئے شروع ہو جاتی ہے۔ ، الحکم مورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۴ کالم نمبر ۲ - ملفوظات جلد دوم صفحہ ۱۱۴،۱۱۳ جدید ایڈیشن ) وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَشْرِى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ وَاللَّهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ یعنی انسانوں میں وہ اعلیٰ درجہ کے انسان ہیں جو خدا کی رضا میں کھوئے جاتے ہیں وہ اپنی جان بیچتے ہیں اور خدا کی مرضی کو مول لیتے ہیں۔ یہی وہی لوگ ہیں جن پر خدا کی رحمت ہے۔ ایسا ہی وہ شخص جو روحانی پر جور حالت کے مرتبہ تک پہنچ گیا ہے خدا کی راہ میں فدا ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ اس آیت میں فرماتا ہے کہ تمام دکھوں سے وہ شخص نجات پاتا ہے جو میری راہ میں اور میری رضا کی راہ میں جان کو بیچ دیتا ہے اور الرحمن: ۴۷ ۲ البقرة : ۲۰۸