حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 503 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 503

۱۱۸۵ سے بھر دیا اور بعض اوقات شور آب کنوئیں میں اپنے منہ کا لعاب ڈال کر اس کو نہایت شیریں کر دیا اور بعض اوقات سخت مجروحوں کو اپنا ہاتھ رکھ کر ان کو اچھا کر دیا اور بعض اوقات آنکھوں کو جن کے ڈیلے لڑائی کے کسی صدمہ سے باہر جاپڑے تھے اپنے ہاتھ کی برکت سے پھر درست کر دیا۔ ایسا ہی اور بھی بہت سے سے تھے ہاتھ کام اپنے ذاتی اقتدار سے کئے جن کے ساتھ ایک چھپی ہوئی طاقت الہی مخلوط تھی ۔ لیکن یہ بات اس جگہ یادرکھنے کے لائق ہے کہ اس قسم کے اقتداری خوارق گو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہی ہوتے ہیں ۔ مگر پھر بھی خدا تعالیٰ کے ان خاص افعال سے جو بلا توسط ارادہ غیری ظہور میں آتے ہیں کسی طور سے برابری نہیں کر سکتے اور نہ برابر ہونا ان کا مناسب ہے۔ اسی وجہ سے جب کوئی نبی یا ولی اقتداری طور پر بغیر توسط کسی دعا کے کوئی ایسا امر خارق عادت دکھلاوے جو انسان کو کسی حیلہ اور تدبیر اور علاج سے اس کی قوت نہیں دی گئی تو نبی کا وہ فعل خدا تعالیٰ کے ان افعال سے کم رتبہ پر رہے گا جو خود خدا تعالٰی علانیہ اور بالجہر اپنی قوت کاملہ سے ظہور میں لاتا ہے۔ یعنی ایسا اقتداری معجزه به نسبت دوسرے الہی کاموں کے جو بلا واسطہ اللہ جل شانہ سے ظہور میں آتے ہیں ضرور کچھ نقص اور کمزوری اپنے اندر موجود رکھتا ہوگا تا سرسری نگاہ والوں کی نظر میں تشابہ فی الخلق واقع نہ ہو ۔ اسی وجہ سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا باوجود اس کے کہ کئی دفعہ سانپ بنا لیکن آخر عصا کا عصا ہی رہا۔ اور حضرت مسیح کی چڑیاں باوجود یکہ معجزہ کے طور پر اُن کا پرواز قرآن کریم سے ثابت ہے مگر پھر بھی مٹی کی مٹی ہی تھے اور کہیں خدا تعالیٰ نے یہ نہ فرمایا کہ وہ زندہ بھی ہو گئیں۔ اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اقتداری خوارق میں چونکہ طاقت الہی سب سے زیادہ بھری ہوئی تھی کیونکہ وجود آنحضرت ا کا تجلیات الہیہ کے لئے اتم و اعلیٰ و ارفع و اکمل نمونہ تھا اس لئے ہماری نظریں آنحضرت ﷺ کے اقتداری خوارق کو کسی درجہ بشریت پر مقرر کرنے سے قاصر ہیں ۔ مگر تا ہم ہمارا اس پر ایمان ہے کہ اس جگہ بھی اللہ جل شانہ اور اس کے رسول کریم کے فعل میں مخفی طور پر کچھ فرق ضرور ہوگا۔ صلى الله ( آئینہ کمالات اسلام ۔ روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۶۶ تا ۶۸) یہ سچی بات ہے کہ خدائے تعالیٰ غیر معمولی طور پر کوئی کام نہیں کرتا اصل بات یہ ہے کہ وہ خلق اسباب کرتا ہے خواہ ہم کو ان اسباب پر اطلاع ہو یا نہ ہو۔ الغرض اسباب ضرور ہوتے ہیں اس لئے شق القمر يا يُنَارُ كُونِي بَرْدًا وَ سَلمًا ل کے معجزات بھی خارج از اسباب نہیں بلکہ وہ بھی بعض ا الانبياء : ٧٠