حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 500 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 500

۱۱۸۲ چاہتا ہوں کہ یہ تین بیمار جو آپ نے پیش کئے ہیں یہ علامت تو بالخصوصیت مسیحیوں کے لئے حضرت عیسی قرار دے چکے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر تم سچے ایماندار ہو تو تمہاری یہی علامت ہے کہ بیمار پر ہاتھ رکھو گے تو وہ چنگا ہو جائے گا ۔ اب گستاخی معاف اگر آپ سچے ایماندار ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو اس وقت تین بیمار آپ ہی کے پیش کردہ موجود ہیں آپ ان پر ہاتھ رکھ دیں اگر وہ چنگے ہو گئے تو ہم قبول کر لیں گے کہ بیشک آپ سچے ایمان دار اور نجات یافتہ ہیں ۔ ورنہ کہ ورنہ کوئی قبول کرنے کی راہ نہیں کیونکہ حضرت مسیح تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر تم میں رائی کے دانہ برابر بھی ایمان ہوتا تو اگر تم پہاڑ کو کہتے کہ یہاں سے چلا جا تو وہ چلا جاتا۔ مگر خیر میں اس وقت پہاڑ کی نقل مکانی تو آپ سے نہیں چاہتا کیونکہ وہ ہماری اس جگہ سے دور ہیں۔ لیکن یہ تو بہت اچھی تقریب ہوگئی کہ بیمار تو آپ نے ہی پیش کر دیئے۔ اب آپ ان پر ہاتھ رکھو اور چنگا کر کے دکھلاؤ۔ ورنہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ایمان ہاتھ سے جاتا رہے گا ۔ مگر آپ پر یہ واضح رہے کہ یہ الزام ہم پر عائد نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ جل شانہ نے قرآن کریم میں ہماری یہ نشانی نہیں رکھی کہ بالخصوصیت تمہاری یہی نشانی ہے کہ جب تم بیماروں پر ہاتھ رکھو گے تو اچھے ہو جائیں گے۔ ہاں یہ فرمایا ہے کہ میں اپنی رضا اور مرضی کے موافق تمہاری دعائیں قبول کروں گا اور کم سے کم یہ کہ اگر ایک دعا قبول کرنے کے لائق نہ ہو اور مصلحت الہی کے مخالف ہو تو اس میں اطلاع دی جائے گی یہ کہیں نہیں فرمایا کہ تم کو یہ اقتدار دیا جائے گا کہ تم اقتداری طور پر جو چاہو وہی کر گز رو گے مگر حضرت مسیح کا تو یہ حکم معلوم ہوتا ہے کہ وہ بیماروں وغیرہ کے چنگا کرنے میں اپنے تابعین کو اختیار بخشتے ہیں جیسا کہ متی دس باب ایک میں لکھا ہے ۔ پھر اس نے بارہ شاگردوں کو پاس بلا کر انہیں قدرت بخشی کہ ناپاک روحوں کو نکالیں اور ہر طرح کی بیماری اور دکھ درد کو دور کریں ۔“ اب یہ آپ کا فرض اور آپ کی ایمان داری کا ضرور نشان ہو گیا کہ آپ ان بیماروں کو چنگا کر کے دکھلا دیں یا یہ اقرار کریں کہ ایک رائی کے دانہ کے برابر بھی ہم میں ایمان نہیں ۔ اور آپ کو یاد رہے کہ ہر ایک شخص اپنی کتاب کے موافق مواخذہ کیا جاتا ہے ہمارے قرآن کریم میں کہیں نہیں لکھا کہ تمہیں اقتدار دیا جائے گا بلکہ صاف فرما دیا کہ قُلْ إِنَّمَا الْآيَتُ عِنْدَ اللهِ لا یعنی ان کو کہہ دو کہ نشان اللہ تعالیٰ کے پاس ہیں جس نشان کو چاہتا ہے اسی نشان کو ظاہر کرتا ہے بندہ کا اس پر زور نہیں ہے کہ جبر کے ساتھ الانعام: ١١٠