حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 1
۶۸۳ تو به واستغفار ظاہر ہے کہ انسان اپنی فطرت میں نہایت کمزور ہے اور خدا تعالیٰ کے صدہا احکام کا اس پر بوجھ ڈالا گیا ہے۔ پس اس کی فطرت میں یہ داخل ہے کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے بعض احکام کے ادا کرنے سے قاصر رہ سکتا ہے اور کبھی نفس امارہ کی بعض خواہشیں اس پر غالب آ جاتی ہیں۔ پس وہ اپنی کمزور فطرت کی رو سے حق رکھتا ہے کہ کسی لغزش کے وقت اگر وہ تو بہ اور استغفار کرے تو خدا کی رحمت اس کو ہلاک ہونے سے بچالے۔ اس لئے یہ یقینی امر ہے کہ اگر خدا تو بہ قبول کرنے والا نہ ہوتا تو انسان پر یہ بوجھ صدہا احکام کا ہرگز نہ ڈالا جاتا۔ اس سے بلا شبہ ثابت ہوتا ہے کہ خدا تو اب اور غفور ہے۔ اور توبہ کے یہ معنے ہیں کہ انسان ایک بدی کو اس اقرار کے ساتھ چھوڑ دے کہ بعد اس کے اگر وہ آگ میں بھی ڈالا جائے تب بھی وہ بدی ہرگز نہیں کرے گا۔ پس جب انسان اس صدق اور عزم محکم کے ساتھ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے تو خدا جو اپنی ذات میں کریم و رحیم ہے وہ اس گناہ کی سزا معاف کر دیتا ہے ۔ اور یہ خدا کی اعلیٰ صفات میں سے ہے کہ تو بہ قبول کر کے ہلاکت سے بچا لیتا ہے۔ اور اگر انسان کو تو بہ قبول کرنے کی امید نہ ہو تو پھر وہ گناہ سے باز نہیں آئے گا ۔ عیسائی مذہب بھی تو بہ قبول کرنے کا قائل ہے مگر اس شرط سے کہ تو بہ قبول کرنے والا عیسائی ہو لیکن اسلام میں تو بہ کے لئے کسی مذہب کی شرط نہیں ہے۔ ہر ایک مذہب کی پابندی کے ساتھ تو بہ قبول ہو سکتی ہے اور صرف وہ گناہ باقی رہ جاتا ہے جو کوئی شخص خدا کی کتاب اور خدا کے رسول سے منکر رہے۔ اور یہ بالکل غیر ممکن ہے کہ انسان محض اپنے عمل سے نجات پا سکے بلکہ یہ خدا کا احسان ہے کہ کسی کی وہ تو بہ قبول کرتا ہے اور کسی کو اپنے فضل سے ایسی قوت عطا کرتا ہے کہ وہ گناہ کرنے سے محفوظ رہتا ہے۔ (چشمہ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۹۰،۱۸۹) یاد رہے کہ تو بہ اور مغفرت سے انکار کرنا درحقیقت انسانی ترقیات کے دروازہ کو بند کرنا ہے کیونکہ یہ بات تو ہر ایک کے نزدیک واضح اور بدیہیات سے ہے کہ انسان کامل بالذات نہیں بلکہ تکمیل کا محتاج ہے اور جیسا کہ وہ اپنی ظاہری حالت میں پیدا ہو کر آہستہ آہستہ اپنے معلومات وسیع کرتا ہے۔ پہلے ہی