حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 476 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 476

۱۱۵۸ میں کافی مقدار دیکھنے کے بعد مباہلہ کی رسم کو اپنی طرف سے ختم کر چکا ہوں لیکن ہر ایک جو مجھے کذاب سمجھتا ہے اور ایک مکار اور مفتری خیال کرتا ہے اور میرے دعوی مسیح موعود کے بارہ میں میرا مکذب ہے اور جو کچھ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی ہوئی اس کو میرا افتراء خیال کرتا ہے وہ خواہ مسلمان کہلا تا ہو یا ہند و یا آر یہ یاکسی اور مذہب کا پابند ہواس کو بہر حال اختیار ہے کہ اپنے طور پر مجھے مقابل پر رکھ کر تحریری مباہلہ شائع کرے۔ یعنی خدا تعالیٰ کے سامنے یہ اقرار چند اخباروں میں شائع کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے یہ بصیرت کامل طور پر حاصل ہے کہ یہ شخص ( اس جگہ تصریح سے میرا نام لکھے ) جو مسیح موعود ہونے کا دعوی کرتا ہے در حقیقت کذاب ہے اور یہ الہام جن میں سے بعض اس نے اس کتاب میں لکھے ہیں یہ خدا کا کلام نہیں ہے بلکہ سب اس کا افتراء ہے اور میں اس کو در حقیقت اپنی کامل بصیرت اور کامل غور کے بعد اور یقین کامل کے ساتھ مفتری اور کذاب اور دجال سمجھتا ہوں ۔ پس اے خدائے قادر اگر تیرے نزدیک یہ شخص صادق ہے اور کذاب اور مفتری اور کافر اور بے دین نہیں ہے تو میرے پر اس تکذیب اور توہین کی وجہ سے کوئی عذاب شدید نازل کر ورنہ اس کو عذاب میں مبتلا کر ۔ آمین ۔ ہر ایک کے لئے کوئی تازہ نشان طلب کرنے کے لئے یہ دروازہ کھلا ہے اور میں اقرار کرتا ہوں کہ اگر اس دعائے مباہلہ کے بعد جس کو عام طور پر مشتہر کرنا ہوگا اور کم سے کم تین نامی اخباروں میں درج کرنا ہوگا۔ ایسا شخص جو اس تصریح کے ساتھ قسم کھا کر مباہلہ کرے اور آسمانی عذاب سے محفوظ رہے تو پھر میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں ۔ اس مباہلہ میں کسی میعاد کی ضرورت نہیں۔ یہ شرط ہے کہ کوئی ایسا امر نازل ہو جس کو دل محسوس کر لیں ۔ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۷۱-۷۲) جب سے خدا نے مجھے مسیح موعود اور مہدی معہود کا خطاب دیا ہے میری نسبت جوش اور غضب ان لوگوں کا جو اپنے تئیں مسلمان قرار دیتے ہیں اور مجھے کافر کہتے ہیں انتہاء تک پہنچ گیا ہے۔ پہلے میں نے صاف صاف اولہ کتاب اللہ اور حدیث سے اپنے دعوی کو ثابت کیا۔ مگر قوم نے دانستہ ان دلائل سے منہ پھیر لیا اور پھر میرے خدا نے بہت سے آسمانی نشان میری تائید میں دکھلائے مگر قوم نے ان سے بھی کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور پھر ان میں سے کئی لوگ مباہلہ کے لئے اٹھے اور بعض نے علاوہ مباہلہ کے الہام کا دعویٰ کر کے یہ پیشگوئی کی کہ فلاں سال یا کچھ مدت تک ان کی زندگی میں ہی یہ عاجز ہلاک ہو جائے گا مگر آخر کار وہ میری زندگی میں خود ہلاک ہو گئے۔ مگر نہایت افسوس ہے کہ قوم کی پھر بھی آنکھ نہ کھلی اور انہوں