حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 455 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 455

۱۱۳۷ اعلان پادری وائٹ برینٹ صاحب پر اتمام حجت اور میاں فتح مسیح کی دروغگوئی کی کیفیت میاں فتح مسیح نے ےرجون ۱۸۸۸ء کے اخبار نور افشاں میں چھپوا دیا ہے کہ ہم اس طور پر تحقیق الہامات کے لئے جلسہ کر سکتے ہیں کہ ایک جلسہ منعقد ہو کر چار سوال بند کاغذ میں حاضرین جلسہ میں سے کسی کے ہاتھ میں دیدیں گے وہ ہمیں الہاماً بتلائے جائیں ۔ اس کے جواب میں اول تو یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ جیسا کہ ہم اپنے اشتہار ۲۴ مئی ۱۸۸۸ء میں لکھ چکے ہیں۔ فتح مسیح جس کی طینت میں دروغ ہی دروغ ہے ہرگز مخاطب ہونے کے لائق نہیں اور اس کو مخاطب بنانا اور اس کے مقابل پر جلسہ کرنا ہر ایک راستباز کے لئے عار ونگ ہے۔ ہاں اگر پادری وائٹ برینٹ صاحب ایسی درخواست کریں کہ جونورافشاں ۷ جون ۱۸۸۸ء کے صفحہ ے میں درج ہے تو ہمیں بسر و چشم منظور ہے۔ ہمارے ساتھ وہ خدائے قادر و علیم ہے جس سے عیسائی لوگ نا واقف ہیں ۔ وہ پوشیدہ بھیدوں کو جانتا ہے اور ان کی مدد کرتا ہے جو اس کے خالص بندے ہیں لیکن لہو ولعب کے طور پر اپنا نام لینا پسند نہیں کرتا۔ پس اگر پادری وائٹ ، صاحب ایک عام جلسہ بٹالہ میں منعقد کر کے اس جلسہ میں حلفا اقرار کریں کہ اگر مضمون کسی بند لفافہ کا جو میری طرف سے پیش ہو۔ دس ہفتہ تک مجھ کو بتلایا جاوے تو میں بلا توقف دین مسیحی سے بیزار ہو کر مسلمان ہو جاؤں گا اور اگر ایسا نہ کروں تو ہزار روپیہ جو پہلے سے کسی ثالث منظور کردہ کے پاس جمع کرادوں گا بطور تاوان انجمن حمایت اسلام لاہور میں داخل کیا جاوے گا۔ اس تحریری اقرار کے پیش ہونے کے اور نیز نورافشاں میں چھپنے کے بعد اگر دس ہفتہ تک ہم نے لفافہ بند کا مضمون بتلا دیا۔ تو ایفاء شرط کا پادری صاحب پر لازم ہوگا ورنہ ان کے روپیہ کی ضبطی ہو گی اور اگر ہم بتلا نہ سکے تو ہم دعویٰ الہام سے دستبردار ہو جائیں گے اور نیز جو سزا زیادہ سے زیادہ ہمارے لئے تجویز ہو وہ بخوشی خاطر اٹھا لیں گے ۔ فقط بریخت صاح المعلن خاکسار غلام احمد قادیانی ۹ جون ۱۸۸۸ء تبلیغ رسالت جلد اول صفحہ ۱۱۰، ۱۱۱ مجموعه اشتہارات جلد اول صفحہ ۱۳۲ بار دوم )