حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 450

۱۱۳۲ دیکھو ہم حضرات پادری صاحبوں کو نہ تلوار سے بلکہ ملائم الفاظ سے بار بار اس طرف بلاتے ہیں کہ آؤ ہم سے مقابلہ کرو کہ دونوں شخص یعنی حضرت مسیح اور حضرت سیدنا محمد مصطفے ﷺ سے روحانی برکات اور افاضات کے رو سے زندہ کون ہے اور جس طرح خدا کے نبی پاک نے قرآن شریف میں کہا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو کہ مسیح خدا کا بیٹا ہے تو میں سب سے پہلے اس کی پرستش کروں گا۔ ایسا ہی میں کہتا ہوں کہ اے یورپ اور امریکہ کے پادریو! کیوں خواہ مخواہ شور ڈال رکھا ہے۔ تم جانتے ہو کہ میں ایک انسان ہوں جو کروڑہا انسانوں میں مشہور ہوں ۔ آؤ میرے ساتھ مقابلہ کرو مجھ میں اور تم میں ایک برس کی مہلت ہو ۔ اگر اس مدت میں خدا کے نشان اور خدا کی قدرت نما پیشگوئیاں تمہارے ہاتھ سے ظاہر ہوئیں اور میں تم سے کمتر رہا تو میں مان لوں گا کہ مسیح ابن مریم خدا ہے لیکن اگر اس سچے خدا نے جس کو میں جانتا ہوں اور آپ لوگ نہیں جانتے مجھے غالب کیا اور آپ لوگوں کا مذہب آسمانی نشانوں سے محروم ثابت ہوا تو تم پر لازم ہوگا کہ اس دین کو قبول کرو۔ تریاق القلوب - روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۶۰) میں دعویٰ سے کہتا ہوں اور خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ میں اس میں سچا ہوں اور تجربہ اور نشانات کی ایک کثیر تعداد نے میری سچائی کو روشن کر دیا ہے کہ اگر یسوع مسیح ہی زندہ خدا ہے اور وہ اپنے صلیب برداروں کی نجات کا باعث ہوا ہے اور ان کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے باوجود یکہ اس کی خود دعا قبول نہیں ہوئی تو کسی پادری یا راہب کو میرے مقابلہ پر پیش کرو کہ وہ یسوع مسیح سے مدد اور توفیق پا کر کوئی خارق عادت نشان دکھائے۔ میں اب میدان میں کھڑا ہوں اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ میں اپنے خدا کو دیکھتا ہوں۔ وہ ہر وقت میرے سامنے اور میرے ساتھ ہے ۔ میں پکار کر کہتا ہوں ۔ مسیح کو مجھ پر زیادت نہیں کیونکہ میں نور محمدی کا قائمقام ہوں جو ہمیشہ اپنی روشنی سے زندگی کے نشان قائم کرتا ہے اس سے بڑھ کر اور کس چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے۔ الحکم مورخہ ۷ رفروری ۱۹۰۲ء صفحه ۵ - ملفوظات جلد دوم صفحہ ۹۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) جس قدران پادری صاحبان نے اہل اسلام پر مختلف قسم کے اعتراضات کر کے اور بار بار ٹھوکریں کھا کر اپنے خیالات میں پلٹے کھائے ہیں اور طرح طرح کی ندامتیں اٹھا کر پھر اپنے اقوال سے رجوع کیا ہے یہ بات اس شخص کو بخوبی معلوم ہوگی کہ جو اُن کے اور فضلاء اسلام کے باہمی مباحثات کی کتابوں پر ایک محیط نظر ڈالے ۔ ان کے اعتراضات تین قسم سے باہر نہیں یا تو ایسے ہیں کہ جو سراسر افترا اور بہتان ہے جن کی اصلیت کسی جگہ پائی نہیں جاتی اور یا ایسے ہیں کہ فی الحقیقت وہ باتیں ثابت تو ہیں