حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 447 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 447

۱۱۲۹ خدا کا کیسے نیک الفاظ سے آپ کے بابا صاحب کو یاد کیا تھا اور اس کا عوض آپ نے یہ دیا ۔ وہ مقدس پیارا جس نے اس کی عزت اور جلال کے لئے اپنی جان کو ایک کیڑے کی جان کے برابر بھی عزت نہیں دی اور اس کے لئے ہزاروں موتوں کو قبول کیا ۔ اس کو آپ نے گندی گالیاں دیں اور اس کی پاک شان میں طرح طرح کی بے باکیاں اور شوخیاں کیں ۔ میرا خیال اب تک نہ تھا کہ سکھ صاحبوں میں ایسے لوگ بھی ہیں ۔ آفتاب آپ کی نظر میں ایک نا چیز خس و خاشاک دکھائی دیا۔اے غافل ! وہی ایک نور ہے جس نے دنیا کو تاریکی میں پایا اور روشن کیا اور مُردہ پایا اور جان بخشی ۔ تمام نبوتیں اس سے ثابت ہوئیں ۔ دیکھو! میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ روشن مذہب اسلام ہے جس کے ساتھ خدا کی تائیدیں ہر وقت شامل ہیں ۔ کیا ہی بزرگ قدر وہ رسول ہے جس سے ہم ہمیشہ تازہ بتازہ روشنی پاتے ہیں اور کیا ہی برگزیدہ وہ نبی ہے جس کی محبت سے رُوح القدس ہمارے اندر سکونت کرتی ہے۔ تب ہماری دعائیں قبول ہوتی ہیں اور عجائب کام ہم سے صادر ہوتے ہیں۔ زندہ خدا کا مزاہم اسی راہ میں دیکھتے ہیں۔ باقی سب مُردہ پرستیاں ہیں ۔ کہاں ہیں مردہ پرست کیا وہ بول سکتے ہیں؟ کہاں ہیں مخلوق پرست کیا وہ ہمارے آگے ٹھہر سکتے ہیں ؟ کہاں ہیں وہ لوگ جو شرارت سے کہتے تھے جو ہمارے نبی ﷺ سے کوئی پیشگوئی نہیں ہوئی اور نہ کوئی نشان ظاہر ہوا ؟ دیکھو! میں کہتا ہوں وہ شرمندہ ہوں گے اور عنقریب وہ چھپتے پھریں گے! اور وہ وقت آتا ہے بلکہ آگیا کہ اسلام کی سچائی کا نور منکروں کے منہ پر طمانچے مارے گا ! اور انہیں نہیں دکھائی دے گا کہ کہاں چھپیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ میں نے دو مرتبہ با وانا تک صاحب کو کشفی حالت میں دیکھا ہے اور اُن کو اس بات کا اقراری پایا ہے کہ انہوں نے اسی نور سے روشنی حاصل کی ہے۔ فضولیاں اور جھوٹ بولنا مردار خواروں کا کام ہے۔ میں وہی کہتا ہوں کہ جو میں نے دیکھا ہے اسی وجہ سے میں باوانا تک صاحب کو عزت کی نظر سے دیکھتا ہوں کیونکہ مجھے معلوم ہے کہ وہ اس چشمہ سے پانی پیتے تھے جس سے ہم پیتے ہیں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں اس معرفت سے بات کر رہا ہوں کہ جو مجھے عطا کی گئی ہے۔ صلى الله عروسہ اب اگر آپ کو اس بات سے انکار ہے کہ باوا صاحب مسلمان تھے اور نیز آپ کو اس بات پر اصرار ہے کہ بقول آپ کے ہمارے نبی ا نعوذ باللہ بدکار آدمی تھے تو میں آپ پر صرف منقول استدلال سے اتمام حجت کرنا نہیں چاہتا بلکہ ایک اور طریق سے آپ پر خدا کی حجت پوری کرنا چاہتا ہوں ۔۔۔ فیصلہ اس طرح پر ہو سکتا ہے کہ آپ اگر ا۔ ہے کہ آپ اگر اپنے اس عقیدہ پر یقین رکھتے ہیں تو ایک مجلس عام میں اس مضمون کی قسم