حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 436
۱۱۱۸ خدا کے ہاتھ سے برپا ہے تو میری دعا سنی جائے گی ۔ پس اے بزرگو! برائے خدا اس بات کو تو قبول کرو۔ زیادہ مجمع کی ضرورت نہیں۔ علماء میں سے چالیس آدمی جمع ہو جائیں ۔ اس سے کم بھی نہیں چاہیئے کہ چالیس کے عدد کو قبولیت دعا کے لئے ایک بابرکت دخل دخل ہے۔ ہے۔ اربعین نمبر ۲ - روحانی خزائن جلدی اصفحه ۳۷۴ تا ۳۷۸) بالآخر اس قدر لکھنا ضروری سمجھتا ہوں کہ اگر ان نشانوں سے کسی کا دل تسلی پذیر نہ ہو ۔ اور ایسا شخص ان لوگوں میں سے ہو جو الہام اور وحی کا دعوی کرتے ہیں تو اس کے لئے یہ دوسری راہ کھلی ہے کہ وہ میرے مقابل پر اپنے الہام اپنی قوم کے دو اخباروں میں ایک سال تک شائع کرتا رہے اور دوسری شائع طرف میں وہ تمام امور غیبیہ جو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوں اپنی جماعت کے دو اخباروں میں کروں اور دونوں فریقوں کے لئے شرط یہ ہے کہ جو الہام اخباروں میں درج کرائے جائیں وہ ایسے ہوں کہ ہر ایک اُن میں سے امور غیبیہ پر مشتمل ہو اور ایسے امور غیب ہوں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوں اور پھر ایک سال کے بعد چند منصفوں کے ذریعہ سے دیکھا جائے گا کہ کس طرف غلبہ اور کثرت ہے اور کس فریق کی پیشگوئیاں پوری ہوگئی ہیں اور اس امتحان کے بعد اگر فریق مخالف کا غلبہ رہا اور میرا غلبہ نہ ہوا تو میں کا ذب ٹھہروں گا ۔ ورنہ قوم پر لازم ہو گا کہ خدا تعالیٰ سے ڈر کر آئندہ طریق تکذیب اور انکار کو چھوڑ دیں اور خدا کے مرسل کا مقابلہ کر کے اپنی عاقبت خراب نہ کریں۔ (حقیقة الوحی - روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۰۰، ۴۰۱ ) میں پھر ہر ایک طالب حق کو یاد دلاتا ہوں کہ وہ دین حق کے نشان اور اسلام کی سچائی کے آسمانی گواہ جس سے ہمارے نابینا علماء بے خبر ہیں وہ مجھ کو عطا کئے گئے ہیں ۔ مجھے بھیجا گیا ہے تا میں ثابت کروں کہ ایک اسلام ہی ہے جو زندہ مذہب ہے اور وہ کرامات مجھے عطا کئے گئے ہیں جن کے مقابلہ سے تمام غیر مذہب والے اور ہمارے اندرونی اندھے مخالف بھی عاجز ہیں ۔ میں ہر یک مخالف کو دکھلا سکتا ہوں که قرآن شریف اپنی تعلیموں اور اپنے علوم حکمیہ اور ا اور اپنے علوم حکمیہ اور اپنے معارف دقیقہ اور بلاغت کا ملا بلاغت کاملہ کی رُو سے معجزہ ہے موسیٰ کے معجزہ سے بڑھ کر اور عیسیٰ کے معجزات سے صد ہا درجہ زیادہ ۔ میں بار بار کہتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ قرآن اور رسول کریم ﷺ سے سچی محبت رکھنا اور سچی تابعداری اختیار کرنا انسان کو صاحب کرامات بنا دیتا ہے اور اسی کامل انسان پر علوم غیبیہ کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دنیا میں کسی مذہب والا روحانی برکات میں اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا چنانچہ