حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 427 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 427

۱۱۰۹ بالآخر یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اگر آپ کسی طرح سے بحث کرنا نہیں چاہتے تو ایک مجلس میں میرے تمام دلائل وفات مسیح سن کر اللہ جل شانہ کی تین مرتبہ قسم کھا کر یہ کہہ دیجئے کہ یہ دلائل صحیح نہیں ہیں اور صحیح اور یقینی امر یہی ہے کہ حضرت مسیح ابن مریم زنده بجسده العنصری آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں اور آیات قرآنی اپنی صریح دلالت سے اور احادیث صحیحہ متصلہ مرفوعہ اپنے کھلے کھلے منطوق سے اسی پر شہادت دیتی ہیں اور میرا عقیدہ یہی ہے۔ تب میں آپ کی اس گستاخی ، حق پوشی اور بد دیانتی اور جھوٹی گواہی کے فیصلہ کے لئے جناب الہی میں تضرع اور انتہال کروں گا اور چونکہ میری توجہ پر مجھے ارشاد ہو چکا ہے کہ اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ اور مجھے یقین دلایا گیا ہے کہ اگر آپ تقویٰ کا طریق چھوڑ کر ایسی گستاخی کریں گے اور آیت لَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ کو نظر انداز کر دیں گے تو ایک سال تک اس گستاخی کا آپ پر ایسا کھلا کھلا اثر پڑے گا پڑے گا جو دوسروں کے لئے بطور نشان کے ہو جائے گا ۔ لہذا مظہر ہوں کہ اگر بحث سے کنارہ ہے تو اسی طور سے فیصلہ کر لیجئے تا وہ لوگ جو نشان نشان کرتے ہیں ان کو خدا تعالیٰ کوئی نشان دکھا دیوے ۔ وهو على كل شيءٍ قدير و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين - تبلیغ رسالت جلد دوم صفحه ۳۰ تا ۳۸ - مجموعه اشتهارات جلد اول صفحه ۲۲۲ تا ۲۲۷ بار دوم ) میں نے ان کی طرف (یعنی مولوی نذیر حسین صاحب دہلوی ۔ ناقل ) کئی دفعہ لکھا کہ میں کسی اور عقیدہ میں آپ کا مخالف نہیں ۔ صرف اس بات میں مخالف ہوں کہ میں آپ کی طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی جسمانی حیات کا قائل نہیں بلکہ میں حضرت مسیح علیہ السّلام کو فوت شدہ اور داخل موتی ایمانا و یقیناً جانتا ہوں۔ اور اُن کے مر جانے پر یقین رکھتا ہوں اور کیوں یقین نہ رکھوں جبکہ میرا مولی میرا آقا اپنی کتاب عزیز اور قرآن کریم میں ان کو متوفیوں کی جماعت میں داخل کر چکا ہے ۔ اور سارے قرآن میں ایک دفعہ بھی ان کی خارق عادت زندگی اور ان کے دوبارہ آنے کا ذکر نہیں بلکہ ان کو صرف فوت شدہ کہہ کر پھر چپ ہو گیا لہذا ان کا زندہ بجسده العنصری ہونا اور پھر دوبارہ کسی وقت دنیا میں آنا نہ صرف اپنے ہی الہام کی رو سے خلاف واقعہ سمجھتا ہوں بلکہ اس خیال حیات مسیح کو نصوص بینہ قطعیہ یقینیہ قرآن کریم کی رو سے لغو اور باطل جانتا ہوں ۔ اگر یہ میرا بیان کلمہ کفر ہے یا جھوٹ ہے تو آئیے اس امر میں مجھ سے بحث کیجئے ۔ پھر اگر آپ نے قرآن اور حدیث سے حیات جسمانی حضرت عیسی علیہ السّلام کی ثابت کر کے دکھلا دی تو میں اس قول سے رجوع کروں گا بلکہ وہ اپنی کتابیں جن میں یہ مضمون ہے جلا دوں گا۔ اگر بحث