حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 39
۷۲۱ بدی ہے جس کی لازمی تاثیر یہ ہے کہ اندھیرا ہو جائے۔ پھر اس کے مقابل پر یہ ہے کہ گھر کا دروازہ جو آفتاب کی طرف ہے کھولا جائے اور یہ ایک نیکی ہے جس کی لازمی خاصیت یہ ہے کہ گھر کے اندر گم شدہ روشنی واپس آ جائے ۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحہ ۷۶ تا ۸۱ ) Sre آپ کا یہ کہنا کہ حضرت مقدس نبوی کی تعلیم یہ ہے کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ کہنے سے گناہ ڈور ہو جاتے ہیں۔ یہ بالکل سچ ہے اور یہی واقعی حقیقت ہے کہ جو محض خدا کو واحد لاشریک جانتا ہے اور ایمان لاتا ہے کہ محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی قادر یکتا نے بھیجا ہے تو بے شک اگر اس کلمہ پر اس کا خاتمہ ہو تو نجات پا جائے گا۔ آسمانوں کے نیچے کسی کی خود کشی سے نجات نہیں ۔ ہرگز نہیں۔ اور اس سے زیادہ کون پاگل ہو گا کہ ایسا خیال بھی کرے مگر خدا کو واحد لاشریک سمجھنا اور ایسا مہربان خیال کرنا کہ اس نے نہایت رحم کر کے دنیا کو ضلالت سے چھڑانے کے لئے اپنا رسول بھیجا جس کا نام محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ یہ ایک ایسا اعتقاد ہے کہ اس پر یقین کرنے سے روح کی تاریکی دور ہوتی ہے اور نفسانیت دور ہو کر اس کی جگہ توحید لے لیتی ہے۔ آخر توحید کا زبردست جوش تمام دل پر محیط ہو کر اسی جہان میں بہشتی زندگی شروع ہو جاتی ہے جیسا تم دیکھتے ہو کہ نور کے آنے سے ظلمت قائم ے نہیں، سکتی ایسا ہی جب لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ کا نورانی پر توہ دل پر پڑتا ہے تو نفسانی ظلمت کے جذبات کالمعدوم ہو جاتے ہیں ۔ گناہ کی حقیقت بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ سرکشی کی ملونی سے نفسانی جذبات کا شور وغوغا ہو جس کی متابعت کی حالت میں ایک شخص کا نام گنہگار رکھا جاتا ہے اور لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ کے معنے جو لغت عرب کے موارد استعمال سے معلوم ہوتے ہیں وہ یہ ہیں کہ لَا مَطْلُوبَ لِی وَلَا مَحْبُوبَ لِي وَلَا مَعْبُودَ لِي وَ لَا مُطَاعَ لِي إِلَّا اللهُ یعنی بجز اللہ کے اور کوئی میرا مطلوب نہیں اور محبوب نہیں اور معبود نہیں اور مطاع نہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ یہ معنے گناہ کی حقیقت اور گناہ کے اصل منبع سے بالکل مخالف پڑے ہیں ۔ پس جو شخص ان معنی کو خلوص دل کے ساتھ اپنی جان میں جگہ دے گا تو بالضرورت مفہوم مخالف اس کے دل سے نکل جائے گا کیونکہ ضدین ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں ۔ پس جب نفسانی جذبات نکل گئے تو یہی وہ حالت ہے جس کو سچی پاکیزگی اور حقیقی راستبازی کہتے ہیں اور خدا کے بھیجے ہوئے پر ایمان لانا جو دوسرے جز و کلمہ کا مفہوم ہے اس کی ضرورت یہ ہے کہ تا خدا کے کلام پر بھی ایمان حاصل ہو جائے کیونکہ جو شخص یہ اقرار کرتا ہے کہ میں خدا کا فرمانبردار بننا چاہتا ہوں