حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 424 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 424

١١٠٦ وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنا رکھا تھا کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ مباحثہ مد کا اس میں ذکر ہے۔ تھا مد کا پس اگر میں نے پہلے بنایا تھا تب تو انہیں ماننا چاہیے کہ میں عالم الغیب ہوں ۔ بہر صورت یہ بھی ایک نشان ہوا۔ اس لئے اب ان کو کسی طرف فرار کی راہ نہیں اور آج وہ الہام پورا ہوا جو خدا نے فرمایا تھا قادر کے کاروبار نمودار کافر جو کہتے تھے وہ گرفتار ہو ہو گئے گئے اعجاز احمدی۔ روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۱۴۵ تا ۱۴۸) کیا یہ خدا تعالیٰ کا نشان نہیں کہ وہی شخص جس کی نسبت کہا گیا تھا کہ جاہل ہے اور ایک صیغہ تک اس کو معلوم نہیں وہ ان تمام مکفروں کو جو اپنا نام مولوی رکھتے ہیں بلند آواز سے کہتا ہے کہ میری تفسیر کے مقابل پر تفسیر بناؤ تو ہزار روپے انعام لو اور نور الحق کے مقابل پر بناؤ تو پانچ ہزار روپیہ پہلے رکھا لو اور کوئی مولوی دم نہیں مارتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خیال کرنا چاہیے کہ ہم نے کس قدر تاکید سے اُن کو میدان میں بلایا اور کن کن الفاظ سے ان کو غیرت دلانا چاہا مگر انہوں نے اس طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ ہم نے صرف اس خیال سے کہ شیخ صاحب کی عربی دانی کا دعوی بھی فیصلہ پا جائے۔ رسالہ نورالحق میں یہ اشتہار دے دیا کہ اگر شیخ صاحب عرصہ تین ماہ میں اسی قدر کتاب تحریر کر کے شائع کر دیں اور وہ کتاب در حقیقت جميع لوازم بلاغت و فصاحت والتزام حق اور حکمت میں نور الحق کے ثانی ہو تو تین ہزار روپیہ نقد بطور انعام شیخ صاحب کو دیا جائے گا اور نیز الہام کے جھوٹا ٹھہرانے کے لئے بھی ایک سہل اور صاف راستہ ان کومل جائے گا اور ہزار لعنت کے داغ سے بھی بچ جائیں گے ورنہ وہ نہ صرف مغلوب بلکہ الہام کے مصدق ٹھہریں گے مگر شیخ صاحب نے ان باتوں میں سے کسی کی بھی پرواہ نہ کی اور کچھ بھی غیرت مندی نہ دکھلائی ۔ اس کا کیا سبب تھا ؟ بس یہی کہ یہ مقابلہ شیخ صاحب کی طاقت سے باہر ہے۔ خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس متکبر کا غرور توڑے اور اس گردن کش کی گردن کو مروڑے اور اس کو دکھلاوے کہ کیونکر وہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے سو اس کی توفیق اور مدد اور خاص اس کی تعلیم اور تفہیم سے یہ کتابیں تالیف ہوئیں اور ہم نے کرامات الصادقین اور نور الحق کے لئے آخری تاریخ درخواست مقابلہ کی اس مولوی اور تمام مخالفوں کے لئے اخیر جون ۱۸۹۴ء مقرر کی تھی جو گذر گئی ۔ ( سر الخلافہ ۔ روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۰ ) اگر حضرت سید مولوی محمد نذیر حسین صاحب یا جناب مولوی ابو محمد عبد الحق صاحب مسئلہ وفات مسیح میں