حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 384 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 384

١٠٦٦ بعد جب آہستہ آہستہ قالب تیار ہو جاتا ہے تو جیسے چند ادویہ کے ملنے سے اُس مجموعہ میں ایک خاص مزاج پیدا ہو جاتی ہے کہ جو ان دواؤں میں فرد فرد کے طور پر پیدا نہیں ہوتی ۔ اسی طرح اس قالب میں جو خون اور دو نطفوں کا مجموعہ ہے ایک خاص جو ہر پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ایک فاسفرس کے رنگ میں ہوتا اور جب تجلی الہی کی ہو ان کے امر کے ساتھ اُس پر چلتی ہے تو یکدفعہ وہ افروختہ ہو کر اپنی تاثیر ہے۔ اس قالب کے تمام حصوں میں پھیلا دیتا ہے تب وہ جنین زندہ ہو جاتا ہے ۔ پس یہی افروختہ چیز جو جنین کے اندر تجلی ربی سے پیدا ہو جاتی ہے اُسی کا نام روح ہے اور وہی کلمتہ اللہ ہے۔ اور اس کو امر ربی سے اس لئے کہا جاتا ہے کہ جیسے ایک حاملہ عورت کی طبیعت مدیرہ بحکم قادر مطلق تمام اعضاء کو پیدا کرتی ہے۔ اور عنکبوت کے جالے کی طرح قالب کو بناتی ہے ۔ اس روح میں اس طبیعت مدیرہ کو کچھ دخل نہیں بلکہ روح محض خاص تجلّی الہی سے پیدا ہوتی ہے۔ اور گوروح کا فاسفرس اس ماڈہ سے ہی پیدا ہوتا ہے مگر وہ روحانی آگ جس کا نام رُوح ہے وہ بجز مس نسیم آسمانی کے پیدا نہیں ہو سکتی۔ یہ سچا علم ہے جو قرآن شریف نے ہمیں بتلایا ہے۔ تمام فلاسفروں کی عقلیں اس علم تک پہنچنے سے بیکار ہیں ۔ (چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۵۸ تا ۱۶۰) نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اُس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے پھر جس حالت میں ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر ان کی فطرتی محبت پر میشر سے کیونکر ہو سکتی ہے اور کب اور کس وقت پر میشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی ۔ یہ تو غیر ممکن ہے۔ وجہ یہ کہ فطرتی محبت اس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو ۔ جیسا کہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی کے یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے۔ پس روح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعا وفطرتا محبت ہے۔ اس لئے کہ وہ اُسی کی پیدائش ہے۔ اور اسی کی طرف اس دوسری آیت میں اشارہ ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ فِطْرَتَ اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ہے یعنی رُوح کا خدائے واحد لاشریک کا طلبگار ہونا اور بغیر خدا کے وصال کے ا الاعراف : ۱۷۳ الروم: ٣١