حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 33
۷۱۵ تا عادت کا مفہوم جو کثرت کو چاہتا ہے ثابت ہو اور تا بعض بیٹے جنات کے لئے مصلوب ہوں اور بعض انسانوں کے لئے اور بعض ان مخلوقات کے لئے جو دوسرے اجرام میں آباد ہیں ۔ یہ اعتراض بھی ایسا تھا کہ ایک لحظہ کے لئے بھی اس میں غور کرنا فی الفور عیسائیت کی تاریکی سے انسان کو چھڑا دیتا ہے۔ ایسا ہی یہ اعتراض کہ کفارہ اس وجہ سے بھی باطل ہے کہ اس سے یا تو یہ مقصود ہو گا کہ گناہ بالکل سرزد نہ ہوں اور یا یہ مقصود ہو گا کہ ہر ایک قسم کے گناہ خواہ حق اللہ کی قسم میں سے اور خواہ حق العباد کی قسم میں سے ہوں کفارہ کے ماننے سے ہمیشہ معاف ہوتے رہتے ہیں۔ سو پہلی شق تو صریح البطلان ہے کیونکہ یورپ کے مردوں اور عورتوں پر نظر ڈال کر دیکھا جاتا ہے کہ وہ کفارہ کے بعد ہرگز گناہ سے بچ نہیں سکے ۔ اور ہر ایک قسم کے گناہ یورپ کے خواص اور عوام میں موجود ہیں۔ بھلا یہ بھی جانے دو۔ نبیوں کے وجود کو دیکھو جن کا ایمان اوروں سے زیادہ مضبوط تھا۔ وہ بھی گناہ سے بچ نہ سکے۔ حواری بھی اس بلا میں گرفتار ہو گئے ۔ پس اس میں کچھ شک نہیں کہ کفارہ ایسا بند نہیں ٹھہر سکتا کہ جو گناہ کے سیلاب سے روک سکے ۔ رہی یہ دوسری بات کہ کفارہ پر ایمان لانے والے گناہ کی سزا سے مستثنیٰ رکھے جائیں گے خواہ وہ چوری کریں یا ڈاکہ ماریں۔ خون کریں یا بدکاری کی مکروہ حالتوں میں مبتلا رہیں تو خدا ان سے کچھ مواخذہ نہیں کرے گا۔ یہ خیال بھی سرا سر غلط ہے جس سے شریعت کی پاکیزگی سب اُٹھ جاتی ہے اور خدا کے ابدی احکام منسوخ ہو جاتے ہیں۔ (کتاب البریہ۔ روحانی خزائن جلد ۱۳ صفحه ۵۹ ،۶۰) افسوس کہ عیسائیوں کو یہ دکھانا چاہئے تھا کہ یہ یقین ہستی باری جو انسان کو خدا ترسی کی آنکھ بخشتا ہے اور گنہ کے خس و خاشاک کو جلاتا ہے۔ اس کا سامان انجیل نے اُن کو کیا بخشا ہے؟ بے ہودہ طریقوں سے گنہ کیونکر ڈور ہو سکتا ہے؟ افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھے کہ یہ کیسا ایک بے حقیقت امر اور ایک فرضی نقشہ کھینچنا ہے کہ تمام دنیا کے گناہ ایک شخص پر ڈالے گئے اور گنہگاروں کی لعنت اُن سے لی گئی اور یسوع کے دل پر رکھی گئی۔ اس سے تو لازم آتا ہے کہ اس کارروائی کے بعد بجز یسوع کے ہر ایک کو پاک زندگی اور خدا کی معرفت حاصل ہو گئی ہے۔ مگر نعوذ باللہ یسوع ایک ایسی لعنت کے نیچے دبایا گیا جو کروڑ ہا لعنتوں کا مجموعہ تھی لیکن جبکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر ایک انسان کے گناہ اس کے ساتھ ہیں اور فطرت نے جس قدر کسی کو کسی جذ بہ نفسانی یا افراط اور تا یا افراط اور تفریط کا حصہ دیا ہے وہ اس کے وجود میں محسوس ہو رہا ہے گو وہ یسوع کو مانتا ہے یا نہیں تو اس سے ثابت ہے کہ جیسا کہ لعنتی زندگی والوں کی لعنتی زندگی ان سے علیحدہ نہیں ہو سکی ۔ ایسا ہی وہ یسوع پر بھی پڑ نہیں سکی کیونکہ جبکہ لعنت اپنے محل پر خوب چسپاں ہے تو وہ یسوع کی طرف کیونکر منتقل