حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 364 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 364

۱۰۴۶ کہ بعض وقت ایک غصہ میں بھرا ہوا انسان بیوی سے ادنی سی بات پر ناراض ہو کر اس کو مارتا ہے اور کسی نازک مقام پر چوٹ لگی ہے اور بیوی مر گئی ہے۔ اس لئے ان کے واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کے ہاں اگر وہ بیجا کام کرے تو تنبیہ ضروری چیز ہے۔ انسان کو چاہئے کہ عورتوں کے دل میں یہ بات جمادے کہ وہ کوئی ایسا کام جو دین اور بدعت کے خلاف ہو کبھی بھی پسند نہیں کر سکتا اور ساتھ ہی وہ ایسا جابر اور ستم شعار نہیں کہ اس کی کسی غلطی پر بھی چشم پوشی نہیں کر سکتا۔ خاوند عورت کے لئے اللہ تعالیٰ کا مظہر ہوتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اپنے سوا کہ کسی کو سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ پس مرد میں جلالی اور جمالی دونوں رنگ موجود ہونے چاہئیں ۔ الحکم مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۰ء صفحہ۲ کالم نمبر ۲ ۳ ۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۳ ۴۰ ۴۰ ۴۰ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) فحشاء کے سوا باقی تمام کج خلقیاں اور تلخیاں عورتوں کی برداشت کرنی چاہئیں ۔ ہمیں تو کمال بے شرمی سواباقی کج معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں ۔ ہم کو خدا نے مرد بنایا ہے اور یہ در حقیقت ہم پر اتمام نعمت ہے اس کا شکر یہ ہے کہ عورتوں سے لطف اور نرمی کا برتاؤ کریں ۔ الحکم مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۰ ء صفحه ۳ کالم ۲ - ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) میرا یہ حال ہے کہ ایک دفعہ میں نے اپنی بیوی پر آوازہ کسا تھا اور میں محسوس کرتا تھا کہ وہ بانگ بلند دل کے رنج سے ملی ہوئی ہے اور با ایں ہمہ کوئی دل آزار اور درشت کلمہ منہ سے نہیں نکالا تھا۔ اس کے بعد میں بہت دیر تک استغفار کرتا رہا اور بڑے خشوع اور خضوع سے نفلیں پڑھیں اور کچھ صدقہ بھی دیا کہ یہ درشتی زوجہ پر کسی پنہانی معصیت الہی کا نتیجہ ہے۔ دو الحکم مورخہ ۷ ارجنوری ۱۹۰۰ ء صفحه ۴ کالم نمبر ا ۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۰۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء) یہ طریق اچھا نہیں اس سے روک دیا جائے مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کو (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد ۱۷صفحہ ۷۵) اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رفق اور نرمی کے ساتھ پیش آئیں۔ وہ اُن کی کنیز کیں نہیں ہیں۔ در حقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ کے یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو اور ا النساء : ٢٠