حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 350
۱۰۳۲ یاد رکھو تکبر شیطان سے آیا ہے اور شیطان بنا دیتا ہے۔ جب تک انسان اس سے دور نہ ہو یہ قبول حق اور فیضان الوہیت کی راہ میں روک ہو جاتا ہے۔ کسی طرح سے بھی تکبر نہیں کرنا چاہئے ۔ نہ علم کے لحاظ سے نہ دولت کے لحاظ سے نہ وجاہت کے لحاظ سے نہ ذات اور خاندان اور حسب نسب کی وجہ سے کیونکہ زیادہ تر انہی باتوں سے یہ تکبر پیدا ہوتا ہے اور جب تک انسان ان گھمنڈوں سے اپنے آپ کو پاک صاف نہ کرے گا اس وقت تک وہ خدا تعالیٰ کے نزدیک برگزیدہ نہیں ہو سکتا اور وہ معرفت جو جذبات کے مواد رڈ یہ کو جلا دیتی ہے اس کو عطا نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ شیطان کا حصہ ہے۔ اس کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا ۔ شیطان نے بھی تکبر کیا تھا اور آدم سے اپنے آپ کو بہتر سمجھا اور کہہ دیا أَنَا خَيْرٌ مِنْهُ خَلَقْتَنِي مِنْ نَارٍ وَخَلَقْتَهُ مِنْ طِينٍ لے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ خدا تعالیٰ کے حضور سے مردود ہو گیا۔ الحکم مورخه ۲۴ جنوری ۱۹۰۵ ء صفحه ۲ کالم ۴ - ملفوظات جلد ۴ صفحه ۲۱۲ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) تکبر اور شرارت بُری بات ہے۔ ایک ذراسی بات سے ستر برس کے عمل ضائع ہو جاتے ہیں ۔ لکھا ہے کہ ایک شخص عابد تھا وہ پہاڑ پر رہا کرتا تھا اور مدت سے وہاں بارش نہ ہوئی تھی ۔ ایک روز بارش ہوئی تو پتھروں پر اور روڑیوں پر بھی ہوئی تو اس کے دل میں اعتراض پیدا ہوا کہ ضرورت تو بارش کی کھیتوں اور باغات کے واسطے ہے۔ یہ کیا بات ہے کہ پتھروں پر ہوئی۔ یہی بارش کھیتوں پر ہوتی تو کیا اچھا ہوتا۔ اس پر خدا نے اُس کا سارا ولی ٹنا اسارا ولی ٹنا چھین لیا۔ آخر وہ بہت ساغمگین : آخر وہ بہت سا غمگین ہوا اور کسی اور بزرگ سے استمداد نداد کی تو آخر اس کو پیغام آیا کہ تو نے اعتراض کیوں کیا تھا تیری اس خطا پر عتاب ہوا ہے۔ الحکم مورخہ ۷ ارجولائی ۱۹۰۳ صفحه ۱۶ کالم ۲ ۔ ملفوظات جلد سوم صفحه ۲۳۷۱ ۳۷ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) تکبر کئی قسم کا ہوتا ہے۔ کبھی یہ آنکھ سے نکلتا ہے جبکہ دوسرے کو گھور کر دیکھتا ہے۔ تو اس کے یہی معنے ہوتے ہیں کہ دوسرے کو حقیر سمجھتا ہے اور اپنے آپ کو بڑا سمجھتا ہے۔ کبھی زبان سے نکلتا ہے اور کبھی اس کا اظہار سر سے ہوتا ہے اور کبھی ہاتھ اور پاؤں سے بھی ثابت ہوتا ہے۔ غرضیکہ تکبر کے کئی چشمے ہیں اور مومن کو چاہئے کہ ان تمام چشموں سے بچتا رہے اور اس کا کوئی عضو ایسا نہ ہو جس سے تکبر کی بو آ وے اور وہ تکبر ظاہر کرنے والا ہو۔ صوفی کہتے ہیں کہ انسان کے اندر اخلاق رذیلہ کے بہت سے جن ہیں اور جب یہ نکلنے لگتے ہیں تو نکلتے رہتے ہیں مگر سب سے آخری جن تکبر کا ہوتا ہے جو اُس میں رہتا ہے اور خدا تعالیٰ کے فضل اور ا الاعراف : ۱۳