حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 337 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 337

۱۰۱۹ دوسرے پہلو میں بندے کی مان لیتا ہے ۔ وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْ مِنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ لے میں تو اپنا حق رکھ کر منوانا چاہتا ہے۔ نون ثقیلہ کے ذریعہ سے جو اظہار تاکید کیا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کا یہ منشا ہے کہ قضاء مبرم کو ظاہر کریں گے تو اس کا علاج اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ ہی ہے۔ اور دوسرا وقت خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کی امواج کے جوش کا ہے وہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ ہے میں ظاہر کیا ہے۔ پس مومن کو ان دونوں مقامات کا پورا علم ہونا چاہئے ۔ صوفی کہتے ہیں کہ فقر کامل نہیں ہوتا جب تک محل اور موقعہ کی شناخت حاصل نہ ہو۔ بلکہ کہتے ہیں کہ صوفی دعا نہیں کرتا جب تک کہ وقت کو شناخت نہ کرے۔ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دعا کے ساتھ شقی سعید کیا جاتا ہے بلکہ وہ تو یہاں تک کہتے ہیں کہ شَدِيدُ الاخْتِفَاءِ امور مُشَبَّهُ بِالْمُبْرَم بھی دور کئے جاتے ہیں ۔ الغرض دعا کی اس تقسیم کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنی منوانا چاہتا ہے اور کبھی وہ مان لیتا ہے ۔ یہ معاملہ گویا دوستانہ معاملہ ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جیسی عظیم الشان قبولیت دعاؤں کی ہے اس کے مقابل رضا اور تسلیم کے بھی آپ اعلیٰ درجہ کے مقام پر ہیں۔ چنانچہ آپ کے گیارہ بچے مر گئے مگر آپ نے کبھی سوال نہ کیا کہ کیوں؟ (الحکم، مورخه ۲۸ رفروری ۱۹۰۲ء صفحه ۳ کالم ۲، ۳ ، صفحہ ۴ کالم ۱ - ملفوظات جلد دوم صفحه ۱۶۶ تا ۱۶۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) عادۃ اللہ یہ ہے کہ جب ایک فعل یا عمل انسان سے صادر ہوتا ہے تو جو کچھ اس میں اثر مخفی یا کوئی خاصیت چھپی ہوئی ہوتی ہے خدا تعالیٰ ضرور اس کو ظاہر کر دیتا ہے۔ مثلاً جس وقت ہم کسی کوٹھڑی کے چاروں طرف سے دروازے بند کر دیں گے تو یہ ہمارا ایک فعل ہے جو ہم نے کیا اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس پر اثر یہ مترتب ہو گا کہ ہماری کوٹھڑی میں اندھیرا ہو جائے گا۔ اور اندھیرا کرنا خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانون قدرت میں مندرج ہے۔ ایسا ہی جب ہم ایک وزن کافی تک زہر کھا لیں گے تو کچھ شک نہیں کہ یہ ہمارا فعل ہوگا۔ پھر بعد اس کے ہمیں مار دینا یہ خدا کا فعل ہے جو قدیم سے اس کے قانونِ قدرت میں مندرج ہے۔ غرض ہمارے فعل کے ساتھ ایک فعل خدا کا ضرور ہوتا ہے جو ہمارے فعل کے بعد ظہور میں آتا اور اس کا نتیجہ لازمی ہوتا ہے۔ سو یہ انتظام جیسا کہ ظاہر سے متعلق ہے ایسا ہی باطن سے بھی متعلق ہے۔ ہر ایک ہمارا نیک یا بد کام ضرور اپنے ساتھ ایک اثر رکھتا ہے جو ہمارے فعل البقرة : ۱۵۶ ٢ البقرة: ۱۵۷ المؤمن : ٦١