حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 314
۹۹۶ داخل ہو گئی ہے جو پہلے نہیں تھی ۔ اس روح کے ملنے سے ایک عجیب سکینت اور اطمینان مومن کو حاصل ہو جاتی ہے۔ اور محبت ذاتیہ ایک فوارہ کی طرح جوش مارتی اور عبودیت کے پودہ کی آبپاشی کرتی ہے اور وہ آگ جو پہلے ایک معمولی گرمی کی حد تک تھی اس درجہ پر وہ تمام و کمال افروختہ ہو جاتی ہے اور انسانی وجود کے تمام خس و خاشاک کو جلا کر الوہیت کا قبضہ اس پر کر دیتی ہے اور وہ آگ تمام اعضاء پر احاطہ کر لیتی ہے ۔ تب اس لوہے کی مانند جو نہایت درجہ آگ میں تپایا جائے یہاں تک کہ سُرخ ہو جائے اور آگ کے رنگ پر ہو جائے اس مومن سے الوہیت کے آثار اور افعال ظاہر ہوتے ہیں جیسا کہ لوہا بھی اس درجہ پر آگ کے آثار اور افعال ظاہر کرتا ہے۔ مگر یہ نہیں کہ وہ مومن خدا ہو گیا ہے بلکہ محبت الہیہ کا کچھ ایسا ہی خاصہ ہے جو اپنے رنگ میں ظاہر وجود کو لے آتی ہے۔ اور باطن میں عبودیت اور اس کا ضعف موجود ہوتا ہے۔ اس درجہ پر مومن کی روٹی خدا ہوتا ہے جس کے کھانے پر اس کی زندگی موقوف ہے اور مومن کا پانی بھی خدا ہوتا ہے جس کے پینے سے وہ موت سے بچ جاتا ہے اور اس کی ٹھنڈی ہوا بھی خدا ہی ہوتا ہے جس سے اس کے دل کو راحت پہنچتی ہے اور اس مقام پر استعارہ کے رنگ میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ خدا اس مرتبہ کے مومن کے اندر داخل ہوتا اور اس کے رگ وریشہ میں سرائت کرتا اور اس کے دل کو اپنا تخت گاہ بنا لیتا ہے۔ تب وہ اپنی روح سے نہیں بلکہ خدا کی رُوح سے دیکھتا اور خدا کی روح سے سنتا اور خدا کی روح سے بولتا اور خدا کی روح سے چلتا اور خدا کی رُوح سے دشمنوں پر حملہ کرتا ہے کیونکہ وہ اس مرتبہ پر نیستی اور استبلاک کے مقام میں ہوتا ہے اور خدا کی روح اس پر اپنی محبت ذاتیہ کے ساتھ تجلی فرما کر حیات ثانی اس کو بخشتی ہے۔ پس اس وقت روحانی طور پر اس پر یہ آیت صادق آتی ہے۔ ثُمَّ انْشَأْنُهُ خَلْقًا أَخَرَ فَتَبَرَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخُلِقِينَ ۔ ( ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۲۱۲ تا ۲۱۶) نماز کی ظاہری صورت پر اکتفا کرنا نادانی ہے۔ اکثر لوگ رسمی نماز ادا کرتے ہیں اور بہت جلدی کرتے ہیں جیسے ایک نا واجب ٹیکس لگا ہوا ہے جلدی گلے سے اُتر جاوے۔ بعض لوگ نماز تو جلدی پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد دُعا اس قدر لمبی مانگتے ہیں کہ نماز کے وقت سے دُگنا تگنا وقت لے لیتے ہیں حالانکہ نماز تو خود دعا ہے جس کو یہ نصیب نہیں ہے کہ نماز میں دُعا کرے اس کی نماز ہی نہیں ۔ چاہئے کہ اپنی نماز کو دعا سے مثل کھانے اور سرد پانی کے لذیذ اور مزیدار کر لو ۔ ایسا نہ ہو کہ اس پر ویل ا المؤمنون : ۱۵