حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 307 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 307

۹۸۹ اور ان لوگوں کو حاصل نہ تھا۔ اور اگر ٹھیک ٹھیک ان کے تنزل کا حال ظاہر کیا جاتا تو یہ لفظ نہایت موزوں تھا کہ ان زبانوں کا نام مُردہ زبانیں رکھا جاتا۔ من الرحمن - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۴۵ تا ۱۶۱ حاشیه ) فواها للعربية مَا اَحْسَنَ وَجُهُهَا فى الحلل المنيرة الكاملة ۔ أشرقت الارض بانوارها التامة۔ وتحقق بها كمال الهوية البشريّة۔ توجد فيها عجائب الصانع الحكيم القدير۔ كما توجد في كل شيء صدر من البديع الكبير ۔ واكمل الله جميع اعضائها۔ و ما غادر شيئًا من حسنها و بهائها ۔ فَلا جَرَمَ تجدها كاملة فى البيان ۔ محيطة على اغراض نوع الانسان۔ فَمَا من عمل يبدو الى انقراض الزمان۔ ولا من صفة من صفات الله الديان۔ وما من عقيدة من عقايد البرية۔ الا ولها لفظ مفرد في العربية۔ فاختبر ان كنت من المرتابين۔ من الرحمن - روحانی خزائن جلد ۹ صفحه ۱۹۴،۱۹۳) ترجمه عربی عبارت ” من الرحمن پس عربی زبان کیا ہی عمدہ ہے اور کیا اچھا اس کا چہرہ ہے جو چمکیلے اور کامل پیرا یہ میں نظر آتا ہے۔ زمین اس کے پورے نوروں سے چمک اٹھی ہے اور بشری ماہیت کا کمال اُس سے ثابت ہو گیا ہے۔ اس میں عجائب کام خدائے صانع حکیم قادر کے ظاہر ہیں جیسا کہ ان تمام چیزوں میں پائے جاتے ہیں جو اس بزرگ بے مثل پیدا کنندہ سے صادر ہوئے ہیں اور خدا تعالیٰ نے اس کے تمام اعضا کو کامل کیا ہے اور اس کے حسن اور خوبی سے کوئی چیز اٹھا نہیں رکھی ۔ پس اسی وجہ سے تو اس کو بیان میں کامل پائے گا اور دیکھے گا کہ وہ انسان کی تمام غرضوں پر محیط ہے پس ایسا کوئی بھی عمل ان عملوں میں سے نہیں کہ جو زمانہ کے اخیر تک ظاہر ہوں اور نہ ایسی کوئی صفت خدا تعالیٰ میں پائی جاتی ہے اور نہ کوئی ایسا عقیدہ لوگوں کے عقائد میں سے ہے جس کے لئے عربی میں لفظ مفرد موضوع نہ ہو۔ پس تو آزما لے اگر تجھے شک ہے۔