حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 301 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 301

۹۸۳ بات ظاہر ہے کہ ہر یک زبان میں بہت سے مترادف الفاظ پائے جاتے ہیں۔ لیکن جب تک آنکھ کھول کر ان کے باہمی فرقوں پر اطلاع نہ پاویں اور وہ الفاظ علم الہی اور دینی تعلیم میں۔ میں سے نہ ہوں تب تک ان کو علمی مد میں شمار نہیں کر سکتے ۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ انسان اپنی طرف سے ایسے مفردات پیدا نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر قدرت قادر سے پیدا شدہ ہیں تو ان میں غور کر کے اُن کے باریک فرق اور محل استعمال معلوم کر سکتا ہے۔ مثلاً صرف اور نحو کے بانیوں کو دیکھو کہ انہوں نے کوئی نئی بات نہیں نکالی اور نہ نئے قواعد بنا کر کسی کو اُن پر چلنے کے لئے مجبور کیا بلکہ اسی طبیعی بولی کو ایک بیدار نظر کے ساتھ دیکھ کر تاڑ گئے کہ یہ بول چال قواعد کے اندر آ سکتی ہے۔ تب مشکلات کے سہل کرنے کے لئے قواعد کی بنا ڈالی۔ سوقر آن کریم نے ہر یک لفظ کو اپنے محل پر رکھ کر دنیا کو دکھلا دیا کہ عربی کے مفردات کس کس محل پر استعمال پاتے ہیں ۔ اور کیسے وہ اللہیات کے خادم اور نہایت دقیق امتیاز باہمی رکھتے ہیں اب ہم اسی پر اکتفاء کر کے ایک اور لفظ کی چند خوبیاں بیان کرتے ہیں۔ سو وہ لفظ رب کا ہے جو قرآنی الفاظ میں سے ہم نے لیا ہے۔ یہ لفظ قرآن شریف کی پہلی ہی سورۃ اور پہلی ہی آیت میں آتا ہے۔ جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے ۔ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ له لسان العرب اور تاج العروس میں جو لغت کی نہایت معتبر کتا بیں ہیں ب لکھا لکھا ہے ہے کہ زبان عرب میں رب کا لفظ رسات سات معنوں پر پر مشتمل ہے۔ اور وہ یہ ہیں ۔ مالک ، سید ، مدبر ، مربی ، قیم ، منعم، متمم ۔ چنانچہ ان سات معنوں میں سے تین معنی خدا تعالیٰ کی ذاتی عظمت پر دلالت کرتے ہیں۔ منجملہ ان کے مالک ہے اور مالک لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کا اپنے مملوک پر قبضہ تامہ ہو اور جس طرح چاہے اپنے تصرف میں لا سکتا ہو اور بلا اشتراک غیر اس پر حق رکھتا ہو اور یہ لفظ حقیقی طور پر یعنی بلحاظ اس کے معنوں کے بجز خدا تعالیٰ کے کسی دوسرے پر اطلاق نہیں پا سکتا کیونکہ قبضہ تا مہ اور تصرف تام اور حقوق تامہ بجز خدا تعالیٰ کے اور کسی کے لئے مسلم نہیں۔ اور سید لغت عرب میں اس کو کہتے ہیں جس کے تابع ایک ایسا سوادِ اعظم ہو جو اپنے دلی جوش اور اپنی طبعی اطاعت سے اس کے حلقہ بگوش ہوں۔ سو بادشاہ اور سید میں یہ فرق ہے کہ بادشاہ سیاست قہری اور اپنے قوانین کی سختی سے لوگوں کو مطیع بناتا ہے اور سید کے تابعین اپنی دلی محبت اور دلی جوش اور دلی تحریک ا الفاتحة : ٢