حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 288 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 288

۹۷۰ کی ذرہ آمیزش نہ تھی اور اس زمانہ میں جو کچھ خدا نے پیدا کیا وہ ایسی اعلیٰ قدرت سے کیا جس میں عقل انسان حیران ہے ۔ اُس زمانہ کی نظیر میں اس زمانہ کے حالات پیش کرنا درست نہیں ہے۔ مثلاً اب کوئی بچہ انسان کا بغیر ذریعہ ما اور باپ کے پیدا نہیں ہوتا لیکن اگر اس ابتدائی زمانہ میں بھی انسان کا پیدا ہونا والدین کے وجود پر ہی موقوف ہوتا تو پھر کیونکر یہ دنیا پیدا ہو سکتی؟ علاوہ اس کے جو تغیرات بولیوں میں طبعی طور پر ہوتے رہتے ہیں ان تغیرات میں اور اس دوسری صورت میں کہ جب بولی عدم محض سے پیدا کی جائے بڑا فرق ہے۔ کسی موجودہ بولی میں کچھ تغیر ہونا شئے دیگر ہے اور عدم محض سے ایک بولی کا من کل الوجوہ پیدا ہو جانا یہ اور بات ہے۔ ( براہین احمد یہ ہر چہار تخصص - روحانی خزائن جلد اصفحه ۳۵۸ تا ۴۰۴ ) بعض نادان آریہ ایک سنسکرت کو پرمیشر کی بولی ٹھہرا کر دوسری تمام بولیاں جو صد ہا عجائب اور غرائب صنع باری سے بھری ہوئی ہیں انسان کا ایجاد قرار دیتے ہیں ۔ گویا انسان کے ہاتھ میں بھی ایک قسم کی خدائی ہے کہ پر میشر نے تو صرف ایک بولی ظاہر کی مگر آدمیوں نے وہ قوت دکھلا ئی کہ بیسیوں بولیاں اس سے بہتر ایجاد کر لیں۔ بھلا ہم آر یہ لوگوں سے پوچھتے ہیں کہ اگر یہی سچ ہے کہ سنسکرت ہی پرمیشر کے منہ سے نکلی ہے اور دوسری زبانیں انسانوں کی صنعت ہیں اور پرمیشر کے منہ سے دُور رہی ہوتی ہیں تو ذرا بتلاؤ تو سہی کہ وہ کون سے کمالات خاصہ ہیں جو سنسکرت میں پائے جاتے ہیں اور دوسری زبانیں اُن سے عاری ہیں۔ کیونکہ پرمیشر کی کلام کو انسان کے مصنوع پر ضرور فضیلت ہونی چاہئے ۔ کیونکہ وہ اسی سے خدا کہلاتا ہے کہ اپنی ذات میں اپنی صفات میں اپنے کاموں میں سب سے افضل اور بے مثل و مانند ہے۔ اگر ہم یہ فرض کر لیں کہ سنسکرت پرمیشر کا کلام ہے جو ہندوؤں کے باپ دادوں پر نازل ہوا ہے اور دوسری زبانیں دوسرے لوگوں کے باپ دادوں نے بوجہ اس کے کہ وہ ہندوؤں کے باپ دادوں سے زیادہ زیرک اور دانا تھے آپ بنالی ہیں مگر کیا ہم یہ بھی فرض کر سکتے ہیں کہ وہ لوگ ہندوؤں کے پرمیشر سے بھی کچھ بڑھ کر تھے جن کی قدرت کاملہ نے صدہا عمدہ زبانیں بنا کر دکھلا دیں اور پرمیشر صرف ایک ہی بولی بنا کر رہ گیا۔جن لوگوں کی تار و پود میں شرک گھسا ہوا ہے انہوں نے اپنے پرمیشر کو بہت سی باتوں میں ایک برابر درجہ کا شخص سمجھ رکھا ہے۔ کیوں : لیوں نہ ہوانا دی جو ہوئے ۔ خدا کے شہر ا کے شریک جو ٹھہرے۔ اور اگر کسی کے دل میں یہ وہم پیدا ہو کہ خدا نے ایک بولی پر کفایت کیوں نہ کی یہ وہم بھی قلت تدبر سے ناشی ہے۔ اگر کوئی دانا اقالیم مختلفہ - اقالیم مختلفہ کے اوضاع متفاوتہ اور طبائع متفرقہ پر نظر کرے تو بہ یقین کا بہ یقین کامل اس کو