حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 281
۹۶۳ دنیا میں دوقو میں بڑی ہیں جن کو مسیح موعود کی بشارت دی گئی ہے اور مسیحی دعوت کے لئے پہلے اُنہی کا حق ٹھہرایا گیا ہے۔ سو خدا تعالیٰ ایک استعارے کے رنگ میں اس جگہ فرماتا ہے کہ مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے اپنی سیر میں دو قوموں کو پائے گا۔ ایک قوم کو دیکھے گا کہ وہ تاریکی میں ایک ایسے بد بودار چشمے پر بیٹھی ہے کہ جس کا پانی پینے کے لائق نہیں اور اُس میں سخت بد بودار کیچڑ ہے اور اس قدر ہے کہ اب اس کو پانی نہیں کہہ سکتے ۔ یہ عیسائی قوم ہے جو تاریکی میں ہے۔ جنہوں نے مسیحی چشمہ کو اپنی غلطیوں سے بدبو دار کیچڑ میں ملا دیا ہے۔ دوسری سیر میں مسیح موعود نے جو ذوالقرنین ہے ان لوگوں کو دیکھا جو آفتاب کی جلتی ہوئی دھوپ میں بیٹھے ہیں اور آفتاب کی دھوپ اور ان میں کوئی اوٹ نہیں اور آفتاب سے انہوں نے کوئی روشنی تو حاصل نہیں کی اور صرف یہ حصہ ملا ہے کہ اُس سے بدن اُن کے جل رہے ہیں اور اوپر کی جلد سیاہ ہو گئی ہے۔ اس قوم سے مراد مسلمان ہیں جو آفتاب کے سامنے تو ہیں مگر بجز جلنے کے اور کچھ ان کو فائدہ نہیں ہوا یعنی اُن کو توحید کا آفتاب دیا گیا مگر بجز جلنے کے آفتاب سے انہوں نے کوئی حقیقی روشنی حاصل نہیں کی ۔ یعنی دینداری کی سچی خوبصورتی اور سچے اخلاق وہ کھو بیٹھے اور تعصب اور کینہ اور اشتعال طبع اور درندگی کے چلن اُن کے حصہ میں آ گئے ۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس پیرا یہ میں فرماتا ہے کہ ایسے وقت میں مسیح موعود جو ذوالقرنین ہے آئے گا جبکہ عیسائی تاریکی میں ہوں گے اور اُن کے حصہ میں صرف ایک بد بو دار کیچڑ ہوگا جس کو عربی میں حمد کہتے ہیں اور مسلمانوں کے ہاتھ میں صرف خشک توحید ہو گی جو تعصب اور درندگی کی دھوپ سے جلے ہوں گے اور کوئی روحانیت صاف نہیں ہو گی ۔ اور پھر مسیح جو ذوالقرنین ہے ایک تیسری قوم کو پائیں گے جو یا جوج ماجوج کے ہاتھ سے بہت تنگ ہو گی اور وہ لوگ بہت دیندار ہوں گے اور اُن کی طبیعتیں سعادت مند ہوں گی اور وہ ذوالقرنین سے جو مسیح موعود ہے مدد طلب کریں گے تا یا جوج ماجوج کے حملوں سے بچ جائیں اور تا وہ ان کے لئے سید روشن بنا دے گا یعنی ایسے پختہ دلائل اسلام کی تائید میں ان کو تعلیم دے گا۔ یا جوج ماجوج کے حملوں کو قطعی طور پر روک دے گا اور اُن کے آنسو پونچھے گا ! اور ہر ایک طور سے ان کی مدد کرے گا اور اُن کے ساتھ ہو گا ۔ یہ ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جو مجھے قبول کرتے ہیں ۔ یہ عظیم الشان پیشگوئی ہے اور اس میں صریح طور پر میرے ظہور اور میرے وقت اور میری جماعت