حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 24 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 24

٧٠٦ کرے کہ در حقیقت اس کے سوا کوئی اس کا محبوب اور پیارا نہیں ۔ اور نہ صرف اس قدر بلکہ اس کے لئے ۔ خود اپنے نفس کی محبت بھی چھوڑ دے اور اس کے لئے تلخ زندگی اختیار کرے۔ جب اس نکتہ کمال تک پہنچ جائے گا تو بلاشبہ وہ نجات یافتہ ہے اور اس مرتبہ محبت پر نہ کسی تناسخ کے چکر کی اس کو حاجت ہے اور نہ اس کو اپنے لئے کسی کو صلیب دینے کی ضرورت ہے اور اس مرتبہ محبت پر انسان صرف خیالی طور پر اپنے تیں نجات یافتہ قرار نہیں دیتا بلکہ اندر ہی اندر وہ محبت اس کو تعلیم دیتی ہے کہ خدا کی محبت تیرے ساتھ ہے اور پھر خدا کی محبت اس کے شامل حال ہو کر ایک سکینت اور شانتی اس کے دل پر نازل کرتی ہے اور خدا وہ معاملات اس سے شروع کر دیتا ہے جو خاص اپنے پیاروں اور مقبولوں سے کرتا آیا ہے۔ یعنی اس کی اکثر دُعائیں قبول کر لیتا ہے اور معرفت کی باریک باتیں اس کو سکھلاتا ہے اور بہت سی غیب کی باتوں پر اس کو اطلاع دیتا ہے اور اس کے منشاء کے مطابق دنیا میں تصرفات کرتا ہے۔ اور عزت اور قبولیت کے ساتھ دنیا میں اُس کو شہرت دیتا ہے اور جو اور جو شخص اس کی دشمنی سے باز نہ آوے اور اس کے ذلیل کرنے کے درپے رہے آخر اس کو ذلیل کر دیتا ہے اور اُس کی خارق عادت طور پر تائید کرتا ہے اور لاکھوں انسانوں کے دلوں میں اُس کی الفت ڈال دیتا ہے اور عجیب و غریب کرامتیں اُس سے ظہور میں لاتا ہے اور محض خدا کے الہام سے لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف کشش ہو جاتی ہے۔ تب وہ انواع واقسام کے تحائف اور نقد اور جنس کے ساتھ اس کی خدمت کے لئے دوڑتے ہیں۔ اور خدا اس سے نہایت لذیذ اور پُر شوکت کلام کے ساتھ مکالمہ مخاطبہ کرتا ہے جیسا کہ ایک دوست ایک دوست سے کرتا ہے ۔ وہ خدا جو دنیا کی آنکھ سے مخفی ہے وہ اُس پر ظاہر ہو جاتا ہے اور ہر ایک غم کے وقت اپنی کلام سے اس کو تسلی دیتا ہے۔ وہ اُس سے سوال و جواب کے طور پر اپنے فصیح اور لذیذ اور پر شوکت کلام کے ساتھ باتیں کرتا ہے۔ اور سوال کا جواب دیتا ہے اور جو باتیں انسان کے علم اور طاقت سے باہر ہیں وہ اس کو بتلا دیتا ہے۔ مگر نہ نجومیوں کی طرح بلکہ ان مقتدر بادشاہوں کی طرح جن کی ہر ایک بات میں شاہانہ قدرت بھری ہوئی ہوتی ہے۔ وہ ایسی پیشگوئیاں اس پر ظاہر کرتا ہے جن میں اس کی عزت اور اُس کے دشمن کی ذلت ہو اور اُس کی فتح اور دشمن کی شکست ہو۔ غرض اسی طرح وہ اپنے کلام اور کام کے ساتھ اپنا وجود اس پر ظاہر کر دیتا ہے۔ تب وہ ہر ایک گناہ سے پاک ہو کر اس کمال تک پہنچ جاتا ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ ( مضمون جلسہ لاہور منسلکہ چشمہ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۱۸ تا ۴۲۱) نجات کے بارہ میں قرآن شریف نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ نجات ایک ایسا امر ہے جو اسی دنیا میں