حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 259
۹۴۱ ہے وہ زمین پر پانچ سو برس سے زیادہ قائم نہیں رہے گا اور جس وقت ان تعلیموں اور اصولوں کا زوال ہو گا تب متنیا اس ملک میں آ کر دوبارہ ان اخلاقی تعلیموں کو دنیا میں قائم کرے گا۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت مسیح پانسو برس بعد بدھ کے ہوئے ہیں اور جیسا کہ بدھ نے اپنے مذہب کے زوال کی مدت مقرر کی تھی۔ ایسا ہی اس وقت بدھ کا مذہب زوال کی حالت میں تھا۔ تب حضرت مسیح نے صلیب کے واقعہ سے نجات پا کر اس ملک کی طرف سفر کیا اور بدھ مذہب والے ان کو شناخت کر کے بڑی تعظیم سے پیش آئے ۔ یا د رکھنا چاہئے کہ متیا کا نام جو بدھ کی کتابوں میں جابجا مذکور ہے بلا شبہ وہ مسیحا ہے ۔ کتاب تبت تا تار مگو مالیا بائی ایچ ۔ ٹی پر نسب کے صفحہ ۱۴ میں متنیا بدھ کی نسبت جو دراصل مسیحا ہے یہ لکھا ہے کہ جو حالات ٹی ان پہلے مشنریوں ( عیسائی واعظوں) نے تبت میں جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھے اور کانوں سے سُنے اُن حالات پر غور کرنے سے وہ اس نتیجہ تک پہنچ گئے کہ لاموں کی قدیم کتب میں عیسائی مذہب کے آثار موجود ہیں اور پھر اسی صفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ متقدمین یہ خیال کرتے ہیں کہ حضرت مسیح کے حواری ابھی زندہ ہی تھے کہ جب کہ عیسائی دین کی تبلیغ اس جگہ پہنچ گئی تھی ۔ اور پھر اے اصفحہ میں لکھا ہے کہ اس میں کچھ شک نہیں کہ اس وقت عام انتظار ایک بڑے منجی کے پیدا ہونے کی لگ رہی تھی جس کا ذکر ٹے سے ٹس نے اس طرح پر کیا ہے کہ اس انتظار کا مدار نہ صرف یہودی تھے بلکہ خود بدھ مذہب نے ہی اس انتظار کی بنیاد ڈالی تھی۔ یعنی اس ملک میں متیا کے آنے کی پیشگوئی کی تھی اور پھر اس کتاب انگریزی پر مصنف نے ایک نوٹ لکھا ہے اس کی یہ عبارت ہے۔ کتاب پتا کتیان اور اتھا کتھا میں ایک اور بدھ کے نزول کی پیشگوئی بڑی واضح طور پر درج ہے جس کا ظہور گوتم یا ساکھی منی سے ایک ہزار سال بعد لکھا گیا ہے۔ گوتما بیان کرتا ہے کہ میں پچیسواں بدھ ہوں اور بگو امتیا نے ابھی آنا ہے یعنی میرے بعد اس ملک میں وہ آئے گا جس کا نام منتیا ہوگا اور وہ سفید رنگ ہو گا ۔ یہی وجہ تھی کہ اس کے مذہب کے لوگ ہمیشہ اس انتظار میں تھے کہ ان کے ملک میں مسیحا آئے گا۔ اور بدھ نے اپنی پیشگوئی میں اس آنے والے بدھ کا نام بگو امتیا اس لئے رکھا کہ بگو اسنسکرت زبان میں سفید کو کہتے ہیں اور حضرت مسیح چونکہ بلاد شام کے رہنے والے تھے اس لئے وہ بگوا یعنی سفید رنگ تھے ۔ جس ملک میں یہ پیشگوئی کی گئی تھی یعنی مگدھ کا ملک جہاں راجہ گر یہا واقع تھا اس ملک کے لوگ سیاہ رنگ تھے اور گوتم بدھ خود سیاہ رنگ تھا اس لئے بدھ نے آنے والے بدھ کی قطعی علامت ظاہر کرنے کے لئے دوباتیں اپنے مریدوں کو بتلائی تھیں ایک یہ کہ وہ بگوا ہوگا دوسرے یہ کہ وہ متیا ہو گا یعنی سیر کرنے والا ہوگا اور باہر سے آئے گا ۔