حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 231
۹۱۳ اپنی ناچیز ہستی اور اس بیجا تعریف کو خیال میں لا کر مارے شرم کے مرنے کو قبول کرتا اور خدا سے اپنی مغفرت چاہتا۔ پھر بتلاؤ اس کی خدائی پر کون سی دلیل تمہارے پاس ہے؟ کیا اسی کی باتوں یا حواریوں کی و باتوں سے اس کی خدائی ظاہر ہوتی ہے۔ اگر ہم مان بھی لیں کہ اس کی یا اس کے دوستوں کی باتوں سے خدائی کا دعوی پایا جاتا ہے تو یہ نرا دعوی ہوگا جو بغیر ثبوت ایک کوڑی کی قیمت نہیں رکھتا ۔ حالانکہ انجیل کی رو سے یہ دعوی بھی ثابت نہیں ہو سکتا ۔ انجیل یہ کہیں بیان نہیں کرتی کہ مریم کے صاحبزادہ نے کبھی مرد میدان بن کر خدائی کا دعوی کیا تھا بلکہ جب یہودیوں نے ایک دفعہ اسے ڈانٹا تو یسوع نے اپنی خدائی سے انکار کیا۔ ( تبلیغ رسالت جلد ششم صفحه ا۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۹ بار دوم ) حضرت مسیح یوحنا باب ۱۰/۳۰ میں ۳۷ تک صاف طور پر فرمارہے ہیں کہ مجھ میں اور دوسرے مقربوں اور مقدسوں میں ان الفاظ کے اطلاق میں جو بائبل میں اکثر انبیا وغیرہ کی نسبت بولے گئے ہیں جو ابن اللہ ہیں یا خدا ہیں کوئی امتیاز اور خصوصیت نہیں ذرہ سوچ کر دیکھنا چاہئیے کہ حضرت مسیح پر یہودیوں نے یہ بات سن کر کہ وہ اپنے تئیں ابن اللہ کہتے ہیں یہ الزام لگایا تھا کہ تو کفر کہتا ہے یعنی کافر ہے اور پھر انہوں نے اس الزام کے لحاظ سے ان کو پتھراؤ کرنا چاہا اور بڑے افروختہ ہوئے ۔ اب ظاہر ہے کہ ایسے موقعہ پر کہ جب حضرت مسیح یہودیوں کی نظر میں اپنے ابن اللہ کہلانے کی وجہ سے کافر معلوم ہوتے تھے اور انہوں نے اس کو سنگسار کرنا چاہا تو ایسے موقعہ پر کہ اپنی بریت یا اثبات دعوی کا موقعہ تھا مسیح کا فرض کیا تھا ؟ ہر ایک عقلمند سوچ سکتا ہے کہ اس موقعہ پر کہ کافر بنایا گیا حملہ کیا گیا ۔ سنگسار کرنے کا ارادہ کیا گیا۔ دو صورتوں میں سے ایک صورت اختیار کرنا مسیح کا کام تھا۔ اوّل یہ کہ اگر حقیقت میں حضرت مسیح خدا تعالیٰ کے بیٹے ہی تھے تو یوں جواب دیتے کہ یہ میرا دعوی حقیقت میں سچا ہے اور میں واقعی طور پر خدا تعالیٰ کا بیٹا ہوں ۔ اور اس دعویٰ کے ثابت کرنے کے لئے میرے پاس دو ثبوت ہیں ایک یہ کہ تمہاری کتابوں میں میری نسبت لکھا ہے کہ مسیح در حقیقت خدا تعالیٰ کا بیٹا ہے بلکہ خود خدا ہے۔ قادر مطلق ہے عالم الغیب ہے اور جو چاہتا ہے کرتا ہے اگر تم کو شبہ ہے تو لاؤ کتابیں پیش کرو میں ان کتابوں سے اپنی خدائی کا ثبوت تمہیں دکھلا دوں گا ۔ یہ تمہاری غلط فہمی اور کم توجہی اپنی کتابوں کی نسبت ہے کہ تم مجھ کو کافر ٹھہراتے ہو۔ تمہاری کتابیں ہی تو مجھے خدا بنا رہی ہیں اور قادر مطلق بتلا رہی ہیں۔ پھر میں کافر کیونکر ہوا ؟ بلکہ تمہیں تو چاہئے کہ اب میری پرستش اور پوجا شروع کر دو کہ میں خدا ہوں ۔