حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 208 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 208

۸۹۰ اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلعم سے یا اشعار وقصائد و نظم و نثر قدیم و جدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توفی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بحجر قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنوں پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کر لوں گا ۔ (ازالہ اوہام - روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۶۰۳) قرآن شریف ہی بتصریح ذکر کر چکا ہے جبکہ اس نے صاف لفظوں میں فرما دیا کہ کوئی نبی نہیں آیا جو فوت نہ ہوا ہو۔ وَمَا مُحَمَّدُ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ أَفَأَبِنْ مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلَى أَعْقَابِكُمْ ، وَمَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ وَمَا جَعَلْتُهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَامَ وَمَا كَانُوا خَلِدِينَ اب ظاہر ہے کہ با وجود ان تمام آیات کے جو بآواز بلند مسیح کی موت پر شہادت دے رہی ہیں پھر بھی مسیح کو زندہ خیال کرنا اور یہ اعتقاد رکھنا کہ بر خلاف مفہوم آیت وَمَا جَعَلْنَهُمْ جَسَدًا لَّا يَأْكُلُونَ الطَّعَام کے مسیح جسم خاکی کے ساتھ دوسرے آسمان میں بغیر حاجت طعام کے یونہی فرشتوں کی طرح زندہ ہے در حقیقت خدائے تعالیٰ کی پاک کلام سے روگردانی ہے۔ پھر میں کہتا ہوں کہ اگر مسیح اسی جسم خاکی کے ساتھ آسمان پر زندہ ہے تو خدا تعالیٰ کا آیت ممدوحہ بالا میں یہ دلیل پیش کرنا کہ یہ نبی یا اگر فوت ہو گیا تو اس کی نبوت پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا کیونکہ ابتداء سے سارے نبی مرتے ہی آئے ہیں بالکل نکمی اور لغو بلکہ خلاف واقعہ ٹھہر جائیگی اور خدا تعالیٰ کی شان اس سے بلند ہے کہ جھوٹھ بولے یا خلاف واقعہ کہے۔ (ازالہ اوہام ۔ روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۷۷، ۲۷۸) وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ لَا يَخْلُقُونَ شَيْئًا وَهُمْ يُخْلَقُونَ۔ أَمْوَاتٌ غَيْرُ أَحْيَاءِ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ ( سورة النحل الجز و نمبر (۱۴) یعنی جو لوگ بغیر اللہ کے پرستش کئے جاتے اور پکارے جاتے ہیں وہ کوئی چیز پیدا نہیں کر سکتے بلکہ آپ پیدا شدہ ہیں۔ ہیں ۔ - مر مر - چکے ہیں زندہ بھی تو نہیں ہیں اور اور نہیں جانتے کہ کب اٹھائے جائیں گے۔ ال عمران: ۱۴۵ ۲الانبیاء: ۳۵ الانبياء : ٩ ٤ الانبياء : ۲۲ ۵ النحل : ۲۱،۲۰