حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 174
۸۵۶ کے۔ اور میں رسول اور نبی ہوں یعنی باعتبار خلیت کاملہ کے۔ میں وہ آئینہ ہوں جس میں محمد ی شکل اور محمدی نبوت کا کامل انعکاس ہے ۔ اگر میں کوئی علیحدہ شخص نبوت کا دعویٰ کرنے والا ہوتا تو خدا تعالیٰ میرا نام محمد اور احمد اور مصطفیٰ اور مجتبیٰ نہ رکھتا اور نہ خاتم الانبیاء کی طرح خاتم الاولیاء کا مجھ کو خطاب دیا جاتا بلکہ میں کسی علیحدہ نام سے آتا ۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ہر ایک بات میں وجود محمدی میں مجھے داخل کر دیا یہاں تک کہ یہ بھی نہ چاہا کہ یہ کہا جائے کہ میرا کوئی الگ نام ہو یا کوئی الگ قبر ہو کیونکہ ظل اپنے اصل سے الگ ہو ہی نہیں سکتا اور ایسا کیوں کہا گیا ؟ اس میں راز یہ ہے کہ خدا صلى الله انتا تھا کہ آنحضرت علی کو تعالیٰ جانتا ؟ عروسه اس نے خاتم الانبیاء ٹھہرایا ہے اور پھر دونوں سلسلوں کا تقابل پورا کرنے کے لئے یہ ضروری تھا کہ موسوی مسیح کے مقابل پر محمدی مسیح بھی شان نبوت کے ساتھ آوے تا اس نبوت عالیہ کی کسرشان نہ ہو۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے میرے وجود کو ایک کامل ظلیت کے ساتھ پیدا کیا اور ظلی طور پر نبوت محمدی اس میں رکھ دی تا ایک معنے سے مجھ پر نبی اللہ کا لفظ صادق آوے اور دوسرے معنوں سے ختم نبوت محفوظ رہے۔ (نزول المسیح - روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۳۸۲٬۳۸۱ حاشیه ) جاہل، لوگوں کو بھڑکانے کیلئے کہتے ہیں کہ اس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حالانکہ یہ ان کا سراسر افتراء ہے بلکہ جس نبوت کا دعویٰ کرنا قرآن شریف کے رو سے منع معلوم ہوتا ہے ایسا کوئی دعوی نہیں کیا گیا۔ صرف یہ دعویٰ ہے کہ ایک پہلو سے میں اُمتی ہوں اور ایک پہلو سے میں آنحضرت اللہ کے فیض نبوت کی وجہ سے نبی ہوں اور نبی سے مراد صرف اس قدر ہے کہ خدا تعالیٰ سے بکثرت شرف مکالمہ و مخاطبہ پاتا ہوں ۔ بات یہ ہے کہ جیسا کہ مجد دصاحب سرہندی نے اپنے مکتوبات میں لکھا ہے کہ اگر چہ اس اُمت کے بعض افراد مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مخصوص ہیں اور قیامت تک مخصوص رہیں گے لیکن جس شخص کو بکثرت اس مکالمہ و مخاطبہ الہیہ سے مشرف کیا جائے اور بکثرت امور غیبیہ اس پر ظاہر کئے جائیں وہ نبی کہلاتا ہے۔ اب واضح ہو کہ احادیث نبویہ میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اُمت میں سے ایک شخص پیدا ہوگا جو عیسی اور ابن مریم کہلائے گا اور نبی کے نام سے موسوم کیا جائے گا یعنی اس کثرت سے مکالمہ و مخاطبہ کا شرف اس کو حاصل ہوگا اور اس کثرت سے امور غیبیہ اس پر ظاہر ہونگے کہ بجز نبی کے کسی پر ظاہر نہیں ہو سکتے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ لے یعنی خدا اپنے غیب پر کسی کو پوری قدرت اور غلبہ نہیں بخشا جو کثرت ا الجن: ۲۷، ۲۸