حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 171

۸۵۳ اس کے معنے یہ ہیں کہ لَيْسَ مُحَمَّدٌ اَبَا أَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِ الدُّنْيَا وَ لكِنْ هُوَ اَبْ لِرِجَالِ الْآخِرَةِ لِأَنَّهُ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ وَلَا سَبِيلَ إِلَى فَيُؤْضِ اللَّهِ مِنْ غَيْرِ تَوَسُّطِهِ۔ غرض میری نبوت اور رسالت با اعتبار محمد اور احمد ہونے کے ہے نہ میرے نفس کے رو سے اور یہ نام بحیثیت فنافی الرسول مجھے ملا ہے لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا لیکن عیسی کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا اور یہ بھی یادر ہے کہ نبی کے معنے لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا ۔ پس جہاں یہ معنے صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے کیونکہ اگر وہ رسول نہ ہو تو پھر غیب مصفی کی خبر اس کو مل نہیں سکتی اور یہ آیت روکتی ہے لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَسُولٍ لے اب اگر آنحضرت ﷺ کے بعد ان معنوں کے رو سے نبی سے انکار کیا جائے تو اس سے لازم آتا ہے کہ یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہ اُمت مکالمات و مخاطبات الہیہ سے بے نصیب ہے کیونکہ جس کے ہاتھ پر اخبار غیبیہ منجانب اللہ ظاہر ہونگے بالضرور اس پر مطابق آیت لَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ کے مفہوم نبی کا صادق آئے گا۔ اسی طرح جو خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا جائے گا اسی کو ہم رسول کہیں گے۔ فرق درمیان یہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک ایسا نبی کوئی نہیں جس ۔ جدید شریعت نازل ہو یا جس کو بغیر توسط آنجناب اور ایسی فنا فی الرسول کی حالت کے جو آ سمان پر اس کا نام محمد اور احمد رکھا جائے یونہی نبوت کا لقب عنایت کیا جائے ۔ وَمَنْ اِدْعَى فَقَدْ كَفَرَ اس میں اصل بھید یہی ہے کہ خَاتَمَ النَّبِيِّينَ کا مفہوم تقاضا کرتا ہے کہ : تقاضا کرتا ہے کہ جب تک کوئی پردہ مغائرت باقی ہے اس وقت تک اگر کوئی نبی کہلائے گا تو گویا اس مہر کو توڑنے والا ہوگا جو خاتم النبیین پر ہے لیکن اگر کوئی شخص اسی خاتم النبیین میں ایسا گم ہو کہ بباعث نہایت اتحاد اور نفی غیریت کے اسی کا نام پالیا ہو اور صاف آئینہ کی طرح محمدی چہرہ کا اس میں انعکاس ہو گیا ہو تو وہ بغیر مہر توڑنے کے نبی کہلائے گا کیونکہ وہ محمد ہے گولی طور پر ۔ پس با وجود اس شخص کے دعوی نبوت کے جس کا نام ظلی طور پر محمد اور احمد رکھا گیا۔ پھر بھی سیدنا محمد خاتم النبیین ہی رہا کیونکہ یہ محمد ثانی اسی محمد ﷺ کی تصویر اور اسی کا نام ہے مگر عیسی بغیر مہر توڑنے کے آ نہیں سکتا کیونکہ اس کی نبوت ایک الگ نبوت ہے اور اگر بروزی معنوں کے رو سے بھی کوئی شخص نبی اور رسول نہیں ہو سکتا تو پھر اس کے کیا معنے ہیں کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم ہے سو یا د رکھنا چاہئے کہ ان معنوں کے رو سے مجھے نبوت اور رسالت ا الجن: ۲۸،۲۷ الفاتحة : ٧،٦ صلى الله ا پر