حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 161 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 161

۸۴۳ کہ توحید کو سکھلانے کے لئے رسول بھیجے گئے اور انسانوں کی محض عقل پر نہیں چھوڑا گیا تا توحید خالص رہے اور انسانی عجب کا شرک اس میں مخلوط نہ ہو جائے اور اسی وجہ سے فلاسفہ ضالہ کو توحید خالص نصیب نہیں ہوئی کیونکہ وہ رعونت اور تکبر اور عجب میں گرفتار رہے اور توحید خالص نیستی کو چاہتی ہے اور وہ نیستی جب تک انسان سچے دل سے یہ نہ سمجھے کہ میری کوشش کا کچھ دخل نہیں یہ محض انعام الہی ہے حاصل نہیں ہو سکتی ۔ مثلاً ایک شخص تمام رات جاگ کر اور اپنے نفس کو مصیبت میں ڈال کر اپنے کھیت کی آبپاشی کر رہا ہے اور دوسرا شخص تمام رات سوتا رہا اور ایک بادل آیا اور اس کے کھیت کو پانی سے بھر دیا۔ اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا وہ دونوں خدا کا شکر کرنے میں برابر ہوں گے۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ زیادہ شکر کرے گا جس کی کھیت کو بغیر اس کی محنت کے پانی دیا گیا۔ اسی لئے خدا تعالیٰ کے کلام میں بار بار آیا ہے کہ اس خدا کا شکر کرو جس نے رسول بھیجے اور تمہیں تو حید سکھائی۔ (حقیقة الوحی ۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۱۷۲ تا ۱۷۹) میں یہاں ایک ضروری امر بیان کرنا چاہتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کو ضرورتیں کیوں لاحق ہوتی ہیں؟ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ ان کو کوئی ضرورت پیش نہ آوے مگر یہ ضرورتیں اس لئے لاحق ہوتی ہیں تا کہ لکھی وقف کے نمونے مثال کے طور پر قائم ہوں اور ابوبکر کی زندگی کا وقف ثابت ہو اور دنیا میں خدائے مقتدر کی ہستی پر ایمان پیدا ہو اور ایسے لکھی وقف کرنے والے دنیا کے لئے بطور آیات اللہ کے ٹھہریں اور اس مخفی محبت اور لذت پر دنیا کو اطلاع ملے جس کے سامنے مال و دولت جیسی محبوب و مرغوب شے بھی آسانی اور خوشی کے ساتھ قربان ہو سکتی ہے اور پھر مال و دولت کے خرچ کے بعد الہی وقف کو مکمل کرنے کے واسطے وہ قوت اور شجاعت ملے کہ انسان جان جیسی شے کو بھی خدا تعالیٰ کی راہ میں دینے میں دریغ نہ کرے۔ غرض انبیاء علیہم السلام کی ضرورتوں کی اصل غرض دنیا کی جھوٹی محبتوں اور فانی چیزوں سے منہ موڑنے کی تعلیم دینے۔ اللہ تعالیٰ کی ہستی پر لذیذ ایمان پیدا کرنے اور ابنائے جنس کی بہتری اور خیر خواہی کے لئے ایثار کی قوت پیدا کرنے کے واسطے ہوتا ہے۔ ورنہ یہ پاک گروہ خزائن السماوات والارض کے مالک کی نظر میں چلتا ہے ان کو کسی چیز کی ضرورت ہو سکتی ہے؟ وہ ضرورتیں تعلیم کو کامل اور انسان کے اخلاق اور ایمان کے رسوخ کے لئے پیش آتی ہیں ۔ الحکم مورخه ۲۴ را گست ۱۹۰۰ صفحه ۴ کالم نمبر ۲ - ملفوظات جلد اول صفحہ ۳۶۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء)