حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 11

۶۹۳ قرآن شریف میں جو خدا نے یہ فرمایا اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اے بندو! مجھ سے ناامید مت ہو۔ میں رحیم و کریم اور ستار و غفار ہوں اور سب سے زیادہ تم پر رحم کرنے والا ہوں اور اس طرح کوئی بھی تم پر رحم نہیں کرے گا جو میں کرتا ہوں ۔ اپنے باپوں سے زیادہ میرے ساتھ محبت کرو کہ در حقیقت میں محبت میں اُن سے زیادہ ہوں ۔ اگر تم میری طرف آؤ تو میں سارے گناہ بخش دوں گا اور اگر تم تو بہ کرو تو میں قبول کروں گا۔ اور اگر تم میری طرف آہستہ قدم سے بھی آؤ تو میں دوڑ کر آؤں گا ۔ جو شخص مجھے ڈھونڈے گا وہ مجھے پائے گا اور جو شخص میری طرف رجوع کرے گا وہ میرے دروازہ کو کھلا پائے گا۔ میں تو بہ کرنے والے کے گناہ بخشتا ہوں خواہ پہاڑوں سے زیادہ گناہ ہوں ۔ میرا رحم تم پر بہت زیادہ ہے اور غضب کم ہے کیونکہ تم میری مخلوق ہو۔ میں نے تمہیں پیدا کیا اس لئے میرا رحم تم سب پر محیط ہے۔ (چشمہ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۵۶) اے معزز صاحبان! مجھے بہت سے غور کے بعد اور نیز خدا کی متواتر وحی کے بعد معلوم ہوا ہے کہ اگر چہ اس ملک میں مختلف فرقے بکثرت پائے جاتے ہیں اور مذہبی اختلافات ایک سیلاب کی طرح حرکت کر رہے ہیں تا ہم وہ امر جو اس کثرت اختلافات کا موجب ہے وہ در حقیقت ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ اکثر انسانوں کے اندر سے قوت روحانیت اور خدا ترسی کی کم ہو گئی ہے اور وہ آسمانی نور جس کے ذریعہ سے انسان حق اور باطل میں فرق کر سکتا ہے وہ قریباً بہت سے دلوں میں سے جاتا رہا ہے اور دنیا ایک دہریت کا رنگ پکڑتی جاتی ہے۔ یعنی زبانوں پر تو خدا اور پرمیشر ہے اور دلوں میں ناستک مت کے خیالات بڑھتے جاتے ہیں اس بات پر یہ امر گواہ ہے کہ عملی حالتیں جیسا کہ چاہئے درست نہیں ہیں ۔ سب کچھ زبان سے کہا جاتا ہے مگر عمل کے رنگ میں دکھلا یا نہیں جاتا۔ اگر کوئی پوشیدہ راستباز ہے تو میں اُس پر کوئی حملہ نہیں کرتا مگر عام حالتیں جو ثابت ہو رہی ہیں وہ یہی ہیں کہ جس غرض کے لئے مذہب کو انسان کے لازم حال کیا گیا ہے وہ غرض مفقود ہے۔ دل کی حقیقی پاکیزگی اور خدا تعالیٰ کی سچی محبت اور اس کی مخلوق کی سچی ہمدردی اور حلم اور رحم اور انصاف اور فروتنی اور دوسرے تمام پاک اخلاق اور تقویٰ اور طہارت اور راستی جو ایک روح مذہب کی ہے اس کی طرف اکثر انسانوں کو توجہ نہیں۔ مقام افسوس ہے کہ دنیا میں مذہبی رنگ میں تو جنگ و جدل روز بروز بڑھتے جاتے ہیں مگر روحانیت کم ہوتی جاتی ہے۔ مذہب کی اصلی غرض اُس سچے خدا کا پہچاننا ہے جس نے اس تمام عالم کو پیدا کیا ہے اور اس کی محبت میں اس مقام تک پہنچنا ہے جو غیر کی محبت کو جلا دیتا ہے اور اُس کی مخلوق سے ہمدردی کرنا ہے اور حقیقی پاکیزگی