حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 144

۸۲۶ ان تمام نفسانی خواہشوں سے خالصاً للہ دست کش ہو جائے کہ جو اس میں اور اس کے مولیٰ کریم میں جدائی ڈالتے ہیں اور اس کے منہ کو خدا کی طرف سے پھیر کر اپنی نفسانی لذات اور جذبات اور عادات اور خیالات اور ارادات اور نیز مخلوق کی طرف پھیرتے ہیں اور ان کے خوفوں اور امیدوں میں گرفتار کرتے ہیں اور ترقیات کا اوسط درجہ وہ ہے کہ جو جو ابتدائی درجہ میں نفس کشی کے لئے تکالیف اٹھائی جاتی ہیں اور حالت معتادہ کو چھوڑ کر طرح طرح کے دکھ سہنے پڑتے ہیں وہ سب آلام صورت انعام میں ظاہر ہو جائیں اور بجائے مشقت کے لذت اور بجائے رنج کے راحت اور بجائے تنگی کے انشراح اور بشاشت نمودار ہو اور ترقیات کا اعلیٰ درجہ وہ ہے کہ سالک اس قدر خدا اور اس کے ارادوں اور خواہشوں سے اتحاد اور محبت اور یکجہتی پیدا کر لے کہ اس کا تمام اپنا عین واثر جاتا رہے اور ذات اور صفات الہیہ بلا شائبہ ظلمت اور بلا تو ہم حالیت و محلیت اس کے وجود آئینہ صفت میں منعکس ہو جائیں ۔ اور فنا اتم کے آئینہ کے ذریعہ سے جس نے سالک میں اور اس کی نفسانی خواہشوں میں غایت درجہ کا بعد ڈال دیا ہے انعکاس ربانی ذات اور صفات کا نہایت صفائی سے دکھائی دے۔ اس تقریر میں کوئی ایسا لفظ نہیں ہے جس میں وجودیوں یا ویدانتیوں کے باطل خیال کی تائید ہو کیونکہ انہوں نے خالق اور مخلوق میں جو ابدی امتیاز ہے شناخت نہیں کیا ۔ اور اپنے کشوف مشتبہ کے دھوکا سے کہ جو سلوک ناتمام کی حالت میں اکثر پیش آ جاتے ہیں یا جو سودا انگیز ریاضتوں کا ایک نتیجہ ہوتا ہے سخت مغالطات کے بیچ میں پڑ گئے یا کسی نے سکر اور بے خودی کی حالت میں جو ایک قسم کا جنون ہے اس فرق کو نظر سے ساقط کر دیا کہ جو خدا کی روح اور انسان کی روح میں باعتبار طاقتوں اور قوتوں اور کمالات اور تقدسات کے ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ قادر مطلق کہ جس کے علم قدیم سے ایک ذرہ مخفی نہیں اور جس کی طرف کوئی نقصان اور خسران عائد نہیں ہو سکتا اور جو ہر یک قسم کے جہل اور آلودگی اور ناتوانی اور غم اور حزن اور درد اور رنج اور گرفتاری سے پاک ہے وہ کیونکر اس چیز کا عین ہو سکتا ہے کہ جو ان سب بلاؤں میں مبتلا ہے۔ کیا انسان جس کی روحانی ترقیات کے لئے اس قدر حالات منتظرہ ہیں جن کا کوئی کنارہ نظر نہیں آتا وہ اس ذات صاحب کمال تام سے مشابہ یا اس کا عین ہو سکتا ہے جس کے لئے کوئی حالت منتظرہ باقی نہیں ؟ کیا جس کی ہستی فانی اور جس کی روح میں صریح مخلوقیت کے نقصان پائے جاتے ہیں وہ باوجود اپنی تمام آلائشوں اور کمزوریوں اور ناپاکیوں اور عیبوں اور نقصانوں کے اس ذات جلیل الصفات سے برابر ہو برابر ہو سکتا ہے جو اپنی خوبیوں اور پاک صفتوں میں ازلی ابدی طور پر اتم اور اکمل ہے ۔ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى عَمَّا يَصِفُونَ بلکہ اس تیسرے قسم کی ترقی