حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 119 of 636

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 119

۸۰۱ سے نہیں بلکہ طبعی جوش سے کرے کیونکہ اسلام تمام اغراض کے چھوڑ دینے کے بعد رضا بقضا کا نام ہے۔ دنیا میں بجز اسلام ایسا کوئی مذہب نہیں جس کے یہ مقاصد ہوں بے شک خدا تعالیٰ نے اپنی رحمت جتلانے کے لئے مومنوں کو انواع اقسام کی نعمتوں کے وعدے دیئے ہیں مگر مومنوں کو جو اعلیٰ مقام کے خواہش مند ہیں یہی تعلیم دی ہے کہ وہ محبت ذاتی سے خدا تعالیٰ کی عبادت کریں۔ ( نور القرآن نمبر ۲ - روحانی خزائن جلد نمبر ۹ صفحه ۴۳۷ تا ۴۴۱ ) اس جگہ یہ نکتہ بھی یادر ہے کہ آیت موصوفہ بالا یعنی بَلَى مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ لے سعادت تامہ کے تینوں ضروری درجوں یعنی فنا اور بقا اور لقا کی طرف اشارت کرتی ہے کیونکہ جیسا کہ ہم ابھی بیان کر چکے ہیں أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ کا فقرہ یہ تعلیم کر رہا ہے کہ تمام قومی اور اعضا اور جو کچھ اپنا ہے خدا تعالیٰ کو سونپ دینا چاہئے اور اس کی راہ میں وقف کر دینا چاہئے اور یہ وہی کیفیت ہے جس کا نام دوسرے لفظوں میں فنا ہے۔ وجہ یہ کہ جب انسان نے حسب مفہوم اس آیت ممدوحہ کے اپنا تمام وجود معہ اس کی تمام قوتوں کے خدا تعالیٰ کو سونپ دیا اور اس کی راہ میں وقف کر دیا اور اپنی نفسانی جنبشوں اور سکونوں سے بکلی باز آ گیا تو بلاشبہ ایک قسم کی موت اس پر طاری ہو گئی اور اسی موت کو اہل تصوف فنا کے نام سے موسوم کرتے ہیں ۔ پھر بعد اس کے وَهُوَ مُحْسِن کا فقرہ مرتبہ بقا کی طرف اشارہ کرتا ہے کیونکہ جب انسان بعد فنا اکمل و اتم وسلب جذبات نفسانی الہی جذبہ اور تحریک سے پھر جنبش میں آیا اور بعد منقطع ہو جانے تمام نفسانی حرکات کے پھر ربانی تحریکوں سے پر ہو کر حرکت کرنے لگا تو یہ وہ حیات ثانی ہے جس کا نام بقا رکھنا چاہئے۔ پھر بعد اس کے یہ فقرات فَلَةَ أَجْرُهُ عِنْدَ رَبِّهِ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ جواثبات اور ایجاب اجر ونفی و سلب خوف و حزن پر دلالت کرتی ہیں یہ حالت لقا کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ جس وقت انسان کے عرفان اور یقین اور توکل اور محبت میں ایسا مرتبہ عالیہ پیدا ہو جائے کہ اس کے خلوص اور ایمان اور وفا کا اجر اس کی نظر میں وہمی اور خیالی اور ظنی نہ رہے بلکہ ایسا یقینی اور قطعی اور مشہود اور مرئی اور محسوس ہو کہ گویا وہ اس کو مل چکا ہے اور خدا تعالیٰ کے وجود پر ایسا یقین ہو جائے کہ گویا اس کو دیکھ رہا ہے اور ہر یک آئندہ کا خوف اس کی نظر سے اٹھ جاوے اور ہر یک گذشتہ اور موجودہ غم کا نام ونشان نہ رہے اور ہر یک روحانی تنعم موجود الوقت نظر آ وے تو یہی حالت جو ہر یک قبض اور البقرة: ١١٣