حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد دوم) — Page 8
۶۹۰ خدا سے استمد اد چاہے۔ سالک جب تک اللہ تعالیٰ سے قوت نہ پائے گا کیا کر سکے گا۔ توبہ کی توفیق استغفار کے بعد ملتی ہے ۔ اگر استغفار نہ ہو تو یقیناً یا د رکھو کہ تو بہ کی قوت مرجاتی ہے۔ پھر اگر اس طرح پر استغفار کرو گے اور پھر تو بہ کرو گے تو نتیجہ یہ ہو گا يُمَتِّعْكُمْ مَّتَاعًا حَسَنًا إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى لا سُنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ اگر استغفار اور توبہ کرو گے تو اپنے مراتب پا لو گے۔ ہر ایک شخص کے لئے ایک دائرہ ہے جس میں وہ مدارج ترقی کو حاصل کرتا ہے۔ ہر ایک آدمی نبی ، رسول ، صدیق شہید نہیں ہو سکتا۔ الحکم مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۱۰ کالم نمبر ۲ ۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۳۴۹ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) وَ أَنِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْهِ یا د رکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔ دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے۔ قوت حاصل کرنے کے واسطے استغفار ہے جس کو دوسرے لفظوں میں استمداد اور استعانت بھی کہتے ہیں ۔ صوفیوں نے لکھا ہے کہ جیسے ورزش کرنے سے مثلاً مگدروں اور موگریوں کے اُٹھانے اور پھیر نے سے جسمانی قوت اور طاقت بڑھتی ہے ۔ اسی طرح پر روحانی مگدر استغفار ہے۔ اس کے ساتھ رُوح کو ایک قوت ملتی ہے اور دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے۔ جسے قوت لینی مطلوب ہو وہ استغفار کرے۔ الحکم مورخه ۲۴ / جولائی ۱۹۰۲ صفحه ۱۰ کالم نمبرا ۔ ملفوظات جلد اول صفحہ ۱۳۴۸ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا ۔ انسان اگر سچے دل سے اخلاص لے کر رجوع کرے تو وہ غفور رحیم ہے اور تو بہ کو قبول کرنے والا ہے۔ یہ سمجھنا کہ کس کس گنہگار کو بخشے گا خدا تعالیٰ کے حضور سخت گستاخی اور بے ادبی ہے۔ اس کی رحمت کے خزانے وسیع اور لا انتہا ہیں ۔ اس کے حضور کوئی کمی نہیں۔ اس کے دروازے کسی پر بند نہیں ہوتے۔ انگریزوں کی نوکریوں کی طرح نہیں کہ اتنے تعلیم یافتہ کو کہاں سے نوکریاں ملیں ۔ خدا کے حضور جس قدر پہنچیں گے سب اعلیٰ مدارج پائیں گے۔ یہ یقینی وعدہ ہے۔ وہ انسان بڑا ہی بد قسمت اور بد بخت ہے جو خدا تعالیٰ سے مایوس ہو اور اس کی نزع کا وقت غفلت کی حالت میں اُس پر آجاوے۔ بے شک اُس وقت دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ الحکم مورخہ ۰ ار جولائی ۱۹۰۲ء صفحہ ۴ کالم نمبر ۳ ۔ ملفوظات جلد دوم صفحہ ۲۲۲ ۲۲۳ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) بعض آدمی ایسے ہیں کہ ان کو گناہ کی خبر ہوتی ہے اور بعض ایسے کہ ان کو گناہ کی خبر بھی نہیں ہوتی ۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ کے لئے استغفار کا التزام کرایا ہے کہ انسان ہر ایک گناہ کے لئے خواہ وہ ظاہر کا ا هود