حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 81
ΔΙ کوئی معجزہ ظہور میں نہیں آیا <mark>ان</mark> کو <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے سخت شرمندہ کرنے والا <mark>جو</mark>اب دیا اور کھلے کھلے نش<mark>ان</mark> اس <mark>اپنے</mark> بندہ کی تائید میں ظاہر فرمائے۔ایک وہ زم<mark>ان</mark>ہ تھا کہ <mark>ان</mark>جیل کے واعظ بازاروں اور گلیوں اور کوچوں میں نہایت دریدہ دہ<mark>ان</mark>ی سے اور سراسر افترا سے ہمارے سید و مولیٰ خاتم ال<mark>ان</mark>بیاء اور افضل الرسل والاصفیاء اور سید المعصومین والاتقیاء حضرت محبوب جناب احدیت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ قابل شرم جھوٹ بولا کرتے تھے کہ گویا آنجناب سے کوئی پیش گوئی یا معجزہ ظہور میں نہیں آیا۔اور اب یہ زم<mark>ان</mark>ہ ہے کہ <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> نے علاوہ <mark>ان</mark> ہزار ہا معجزات کے <mark>جو</mark> ہمارے سرور و مولی شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے قرآن شریف اور احادیث میں اس کثرت سے مذکور ہیں <mark>جو</mark> اعلیٰ درجہ کے تو اتر پر ہیں تازہ بتازہ صد ہا نش<mark>ان</mark> ایسے ظاہر فرمائے ہیں کہ کسی مخالف اور منکر کو اُن کے مقابلہ کی طاقت نہیں۔ہم نہایت نرمی اور <mark>ان</mark>کسار سے ہر ایک عیسائی صاحب اور دوسرے مخالفوں کو کہتے رہے ہیں اور اب بھی کہتے ہیں کہ در حقیقت یہ بات سچ ہے کہ ہر ایک مذہب <mark>جو</mark> <mark>خدا</mark> <mark>تعالیٰ</mark> کی <mark>طرف</mark> سے ہو کر اپنی سچائی پر قائم ہوتا ہے اُس کے <mark>لئے</mark> ضرور ہے کہ ہمیشہ اُس میں ایسے <mark>ان</mark>س<mark>ان</mark> پیدا ہوتے رہیں کہ <mark>جو</mark> <mark>اپنے</mark> پیشوا اور ہادی اور رسول کے نائب ہو کر یہ ثابت کریں کہ وہ نبی اپنی روح<mark>ان</mark>ی برکات کے لحاظ سے زندہ ہے فوت نہیں ہوا کیونکہ ضرور ہے کہ وہ نبی <mark>جس</mark> کی پیروی کی جائے <mark>جس</mark> کو شفیع اور منجی سمجھا جائے وہ <mark>اپنے</mark> روح<mark>ان</mark>ی برکات کے لحاظ سے ہمیشہ زندہ ہو اور عزت اور رفعت اور جلال کے آسم<mark>ان</mark> پر <mark>اپنے</mark> چمکتے ہوئے چہرہ کے ساتھ ایسا بد<mark>یہی</mark> طور پر مقیم ہو اور <mark>خدا</mark>ئے ازلی ابدی حَي قيوم ذُو الْاِقتدار کے دائیں <mark>طرف</mark> بیٹھنا اُس کا ایسے پر زور الہی ٹوروں سے ثابت ہو کہ اس سے کامل محبت رکھنا اور اس کی کامل پیروی کرنا لازمی طور پر اس نتیجہ کو پیدا کرتا ہو کہ پیروی کرنے والا روح القدس اور آسم<mark>ان</mark>ی برکات کا <mark>ان</mark>عام پائے۔اور <mark>اپنے</mark> پیارے نبی کے نوروں سے نور حاصل کر کے <mark>اپنے</mark> زم<mark>ان</mark>ہ کی تاریکی کو دور کرے۔اور مستعد لوگوں کو <mark>خدا</mark> کی ہستی پر وہ پختہ اور کامل اور درخشاں اور تاباں یقیں بخشے <mark>جس</mark> سے گناہ کی تمام خواہشیں اور سفلی زندگی کے تمام جذبات جل جاتے ہیں۔<mark>یہی</mark> ثبوت اس بات کا ہے کہ وہ نبی زندہ اور آسم<mark>ان</mark> پر ہے۔سو ہم <mark>اپنے</mark> <mark>خدا</mark>ئے پاک ذوالجلال کا کیا شکر کریں کہ اس نے <mark>اپنے</mark> پیارے نبی محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور پیروی کی توفیق دے کر اور پھر اس محبت اور پیروی کے روح<mark>ان</mark>ی فیضوں سے <mark>جو</mark> سچی تقوی اور بچے آسم<mark>ان</mark>ی نش<mark>ان</mark> ہیں کامل حصہ عطا فرما کر ہم پر ثابت کر دیا کہ وہ ہمارا پیارا برگزیدہ نبی فوت نہیں ہوا بلکہ وہ بلند تر آسم<mark>ان</mark> پر <mark>اپنے</mark> ملیک مقتدر