حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 76 of 692

حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 76

۷۶ مقامات ولایت تک پہنچ جاتا ہے۔ خدا اس کو نہ صرف اپنے قول سے مشرف کرتا ہے بلکہ اپنے فعل سے نہ اس کو دکھلاتا ہے کہ میں وہی خدا ہوں جس نے زمین و آسمان پیدا کیا تب اس کا ایمان بلندی میں ڈور ڈور کے ستاروں سے بھی آگے گزر جاتا ہے۔ چنانچہ میں اس امر میں صاحب مشاہدہ ہوں خدا مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور ایک لاکھ سے بھی زیادہ میرے ہاتھ پر اُس نے نشان دکھلائے ہیں سو اگر چہ میں دنیا کے تمام نبیوں کا ادب کرتا ہوں اور ان کی کتابوں کا بھی ادب کرتا ہوں مگر زندہ دین صرف اسلام کو ہی مانتا ہوں کیونکہ اس کے ذریعہ سے میرے پر خدا ظاہر ہوا جس شخص کو میرے اس بیان میں شک ہو اس کو چاہئے کہ ان باتوں کی تحقیق کے لئے کم سے کم دو ماہ کے لئے میرے پاس آ جائے۔ میں اس کے تمام اخراجات کا جو اس کے لئے کافی ہو سکتے ہیں اس مدت تک متکفل رہوں گا۔ میرے نزدیک مذہب وہی ہے جو زندہ مذہب ہو اور زندہ اور تازہ قدرتوں کے نظارہ سے خدا کو دکھلا دے ورنہ صرف دعوئی صحت مذہب پیچ اور بلا دلیل ہے۔ ( مضمون جلسہ لاہور صفحہ ۶۰ منسلکہ چشمہ معرفت ۔ روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۴۲۸) اگر چہ میں نے اپنی بہت سی کتابوں میں اس بات کی تشریح کر دی ہے کہ میری طرف سے یہ دعویٰ کہ میں عیسی مسیح ہوں اور نیز محمد مہدی ہوں اس خیال پر مبنی نہیں ہیں کہ میں در حقیقت حضرت عیسی علیہ السلام ہوں اور نیز در حقیقت حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ مگر پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے غور سے میری کتا بیں نہیں دیکھیں وہ اس شبہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں کہ گویا میں نے تناسخ کے طور پر اس دعوے کو پیش کیا ہے اور گویا میں اس بات کا مدعی ہوں کہ پیچ پیچ ان دو بزرگ نبیوں کی روحیں میرے اندر حلول کر گئی ہیں لیکن واقعی امر ایسا نہیں ہے۔ بلکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ آخری زمانہ کی نسبت پہلے نبیوں نے یہ پیشگوئی کی تھی کہ وہ ایک ایسا زمانہ ہوگا کہ جو دو قسم کے ظلم سے بھر جائے گا ایک ظلم مخلوق کے حقوق کی نسبت ہو گا اور دوسرا ظلم خالق کے حقوق کی نسبت ۔ مخلوق کے حقوق کی نسبت یہ ظلم ہو گا کہ جہاد کا نام رکھ کر نوع انسان کی خونریزیاں ہوں گی یہاں تک کہ جو شخص ایک بے گناہ کو قتل کرے گا وہ خیال کرے گا کہ گویا وہ ایسی خونریزی سے ایک ثواب عظیم کو حاصل کرتا ہے اور اس کے سوا اور بھی کئی قسم کی ایذائیں محض دینی غیرت کے بہانہ پر نوع انسان کو پہونچائی جائیں گی۔ اور دوسری قسم ظلم کی جو خالق کی نسبت ۔ ہے وہ اس زمانہ کے عیسائیوں کا عقیدہ ہے جو خال جو خالق کی نسبت