حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 62
۶۲ یہ دعویٰ کرے کہ میں مستقل طور پر بلا استفاضہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مامور ہوں اور خدا تعالیٰ سے تعلق رکھتا ہوں تو وہ مردود اور مخذول ہے۔ خدا تعالیٰ کی ابدی مہر لگ چکی ہے اس بات پر کہ کوئی شخص وصول الی اللہ کے دروازے سے آ نہیں سکتا بجز اتباع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے۔ الحکم مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۲ء صفحه ۷، ۸ ۔ ملفوظات جلد دوم صفحه ۲۱۳ تا ۲۱۵ ایڈیشن ۲۰۰۳ء ) ان دونوں منصبوں کا مدعی میں ہوں جو تم میں اس وقت پچیس سال سے موجود ہوں پس میرے بعد کس کا انتظار کرو گے؟ ان تمام علامتوں کا مصداق تو وہ ہے جو ان نشانوں کے ظہور کے وقت موجود ہے۔ نہ وہ کہ جس کا ابھی دنیا میں نام و نشان نہیں۔ یہ عجیب سخت دلی ہے جو سمجھ میں نہیں آتی جب کہ میرے دعوی کے ساتھ سب نشان ظاہر ہو چکے اور میری مخالفت میں کوششیں بھی ہو کر ان میں نامرادی اور ناکامی رہی مگر پھر بھی انتظار کسی اور کی ہے ؟ ہاں یہ سچ ہے کہ میں نہ جسمانی طور پر آسمان سے اُترا ہوں اور نہ میں دنیا میں جنگ اور خونریزی کرنے کے لئے آیا ہوں بلکہ صلح کے لئے آیا ہوں مگر میں خدا کی طرف سے ہوں ۔ میں یہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ میرے بعد قیامت تک کوئی ایسا مہدی نہیں آئے گا جو جنگ اور خونریزی سے دنیا میں ہنگامہ برپا کرے اور خدا کی طرف سے ہو۔ اور نہ کوئی ایسا مسیح آئے گا جو کسی وقت آسمان سے اترے گا۔ اِن دونوں سے ہاتھ دھولو۔ یہ سب حسرتیں ہیں جو اس زمانہ کے تمام لوگ قبر میں لے جائیں گے ۔ نہ کوئی مسیح اُترے گا اور نہ کوئی خونی مہدی ظاہر ہوگا۔ جو شخص آنا تھا وہ آچکا وہ میں ہی ہوں جس سے خدا کا وعدہ پورا ہوا۔ جو شخص مجھے قبول نہیں کرتا وہ خدا سے لڑتا ہے کہ تو نے کیوں ایسا کیا ۔ ( تبلیغ رسالت جلد دہم صفحہ ۷۷، ۷۸۔ مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحه ۶۳۳،۶۳۲ بار دوم ) کیوں عجب کرتے ہو گر میں آ گیا ہو کر مسیح خود مسیحائی کا دم بھرتی ہے یہ آسماں پر دعوت حق کے لئے اک جوش ہے ہو رہا ہے نیک طبعوں پر فرشتوں کا اُتار آ رہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی ناگہ زندہ وار کہتے ہیں تثلیث کو اب اہل دانش الوداع پھر ہوئے ہیں چشمہ توحید پر از جاں شار باد بہار