حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ اپنی تحریروں کی رو سے (جلد اوّل) — Page 645
۶۴۵ ذرات اور سیارات وغیرہ در حقیقت ایک قسم کے فرشتے ہیں جو دن رات خدمت میں مشغول ہیں ہیں۔ ۔ کوئی انسان کے جسم کی خدمت میں مشغول ہے اور کوئی روح کی خدمت میں ۔ اور جس حکیم مطلق نے انسان کی جسمانی تربیت کے لئے بہت سے اسباب کا توسط پسند کیا اور اپنی طرف سے بہت سے جسمانی - مؤثرات پیدا کئے تا انسان کے جسم پر انواع اقسام کے طریقوں سے تاثیر ڈالیں۔ اُسی وحدہ لاشریک نے جس کے کاموں میں وحدت اور تناسب ہے یہ بھی پسند کیا کہ انسان کی روحانی تربیت بھی اسی نظام اور طریق سے ہو کہ جو جسم کی تربیت میں اختیار کیا گیا تا وہ دونوں نظام ظاہری و باطنی اور روحانی اور جسمانی اپنے تناسب اور یکرنگی کی وجہ سے صانع واحد مد تیر بالا رادہ پر دلالت کریں ۔ پس یہی وجہ ہے کہ انسان کی روحانی تربیت بلکہ جسمانی تربیت کے لئے بھی فرشتے وسائط مقرر کئے گئے ۔ مگر یہ تمام وسائط خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں مجبور اور ایک کل کی طرح ہیں جس کو اس کا پاک ہاتھ چلا رہا ہے۔ اپنی طرف سے نہ کوئی ارادہ رکھتے ہیں نہ کوئی تصرف ۔ جس طرح ہوا خدا تعالیٰ کے حکم سے ہمارے اندر چلی جاتی ہے اور اسی کے حکم سے باہر آتی ہے اور اُسی کے حکم سے تاثیر کرتی ہے۔ یہی صورت اور بتمامہ یہی حال فرشتوں کا ہے۔ يَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ ۔ پنڈت دیانند نے جو فرشتوں کے اس نظام پر اعتراض کیا ہے کاش پنڈت صاحب کو خدا تعالیٰ کے نظام جسمانی اور روحانی کا علم ہوتا تا بجائے اعتراض کرنے کے کمالات تعلیم قرآنی کے قائل ہو جاتے کہ کیسی قانون قدرت کی صحیح اور سچی تصویر اس میں موجود ہے۔ (آئینہ کمالات اسلام - روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۸۵ تا ۸۸ حاشیه ) اور یہ خیال کہ اگر مدبرات اور مقسمات امر فرشتے ہیں تو پھر ہماری تدبیریں کیوں پیش جاتی ہیں ۔ اور کیوں اکثر امور ہمارے معالجات اور تدبیرات سے ہماری مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں؟ تو اس کا یہ جواب ہے کہ وہ ہمارے معالجات اور تدبیرات بھی فرشتوں کے دخل اور القاء اور الہام سے خالی نہیں ہیں۔ جس کام کو فرشتے باذنہ تعالیٰ کرتے ہیں وہ کام اُس شخص یا اس : یا اس چیز سے لیتے ہیں جس میں فرشتوں کی تحریکات کے اثر کو قبول کرنے کا فطرتی مادہ ہے۔ مثلاً فرشتے جو ایک کھیت یا ایک گانو یا ایک ملک میں باذنہ تعالیٰ پانی برسانا چاہتے ہیں تو وہ آپ تو پانی نہیں بن سکتے اور نہ آگ سے پانی کا کام لے سکتے ہیں بلکہ بادل کو اپنی تحریکات جاذبہ سے محل مقصود پر پہنچا دیتے ہیں اور مدبرات امر بن کر جس کم اور کیف اور حد اور اندازہ تک ارادہ کیا گیا ہے برسا دیتے ہیں ۔ بادل میں وہ تمام قوتیں موجود